
میں نے ایک مکان دو پورشنز کے ساتھ 25 لاکھ روپے میں فروخت کیا۔ مشتری نے ایڈوانس میں 50 ہزار روپے ادا کیے اور باقی رقم کی ادائیگی کے لیے چار ماہ کی مدت طے ہوئی، یہ شرط بھی رکھی گئی کہ اگر مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کی گئی تو جتنے ماہ تاخیر ہوگی، اس کا کرایہ دینا ہوگا، اور مکان پر پرانی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ نئی قیمت طے کی جائے گی۔
میں نے مکان کا ایک پورشن مشتری کے حوالے کر دیا، دوسرا پورشن قبضہ میں رکھا تاکہ مکمل ادائیگی پر دے دوں۔ مشتری نے چار ماہ کی بجائے آٹھ ماہ میں مکمل رقم ادا کی۔ میں نے اسے مکمل قبضہ تو دے دیا، لیکن کہا کہ اب نئی قیمت اور کرایہ ادا کرنا ہوگا۔ حالانکہ اس نے پہلے ان شرائط پر دستخط کیے تھے، اب وہ انکار کر رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میں مشتری سے تاخیر کے مہینوں کا کرایہ اور نئی قیمت کے مطابق اضافی رقم شرعاً لے سکتا ہوں، جبکہ فروخت میں تاخیر کی وجہ سے مجھے مالی نقصان بھی ہوا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں بیع کرتے وقت جو شرط عائد کی گئی تھی کہ اگر مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کی گئی تو جتنے ماہ تاخیر ہوگی، اس کا کرایہ دینا ہوگا، اور مکان پر پرانی قیمت کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ نئی قیمت طے کی جائے گی"شرعا یہ شرط فاسد ہے، اس کی وجہ سے یہ سودا ہی فاسد ہو گیا تھا ،لہذا اس کا شرعی حکم یہ ہے کہ فریقین سابقہ سودا منسوخ کر کے نئے سرے سے سودا کریں جس میں اس قسم کی کوئی شرط فاسد نہ ہو۔
مجمع الانہر میں ہے:
"(ولو) كان البيع(بشرط لا يقتضيه العقد وفي نفع لأحد المتعاقدين) أيالبائعوالمشتري(أولمبيع يستحق) النفع بأن يكون آدميا(فهو) أي هذا البيع(فاسد)."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، بيع الملامسة والمنابذة وإلقاء الحجر، ج:2 ص:63 ط: دار الإحیاءالتراث العربي)
الهداية في شرح بداية میں ہے:
"ولكل واحد من المتعاقدين فسخه رفعًا للفساد وهذا قبل القبض ظاهر؛ لأنه لم يفد حكمه فيكون الفسخ امتناعًا منه، و كذا بعد القبض إذا كان الفساد في صلب العقد لقوته وإن كان الفساد بشرط زائد فلمن له الشرط ذلك دون من عليه لقوة العقد إلا أنه لم تتحقق المراضاة في حق من له الشرط".
(باب البيع الفاسد،فصل في أحكامه، ج:3 ،ص:52،ط:دار احياء التراث العربي- بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144611101846
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن