بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایکسیڈنٹ میں شہید ہونے والے کی دیت کا حکم


سوال

میرے بیٹے کا حادثہ میں پچھلے سال انتقال ہوا اس کی عمر تقریباً 15 سال تھی، حادثہ اس طرح ہوا کہ میرا بیٹا بائک چلا رہا تھا، پیچھے مزدا والا آیا اور اس نے میرے بیٹے کو کچل دیا، تقریبا 15 منٹ بعد  وہ دم توڑ گیا، اب اس حادثہ کے بعد میرے بیٹے کے لیے کیا شرعی حکم ہے؟ مزدا والے پر ضمان دیت کے حوالے سے شرعی راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ  اگر ڈرائیور غلطی سے  ایکسیڈنٹ میں کسی دوسرے کو قتل کردے، تو یہ قتل خطاء ہے اور اس کی وجہ سے ڈرائیور پر کفارہ اور دیت دونوں  لازم ہوں گے (بشرطیکہ یہ ایکسیڈنٹ ڈرائیور کی غلطی وجہ سے ہوا ہو) کفارہ کے طور پر اس ڈرائیور کو مسلسل ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے، البتہ دیت کی ادائیگی اس ڈرائیور کے "عاقلہ" کے ذمہ ہے۔  "عاقلہ" سے مراد وہ جماعت/ یونین/ تنظیم یا کمیونٹی ہے، جس کے ساتھ اس ڈرائیور کا باہمی تعاون کا تعلق ہو اور اگر ڈرائیور کی کوئی عاقلہ نہ ہو، تو پھر دیت کی ادئیگی ڈرائیور ہی کے ذمہ ہے۔

دیت کی مقدار چاندی کے جدید پیمانے کے اعتبار سے 30.618  کلو گرام چاندی  یا اس کی قیمت ہے۔

فتاوی شامی ہے:

"(و) الثالث (خطأ وهو) نوعان: لأنه إما خطأ ‌في ‌ظن ‌الفاعل ك (أن يرمي شخصا ظنه صيدا أو حربيا) أو مرتدا (فإذا هو مسلم أو) خطأ في نفس الفعل كأن يرمي (غرضا) أو صيدا (فأصاب آدميا) أو رمى غرضا فأصابه ثم رجع عنه أو تجاوز عنه إلى ما وراءه فأصاب رجلا أو قصد رجلا فأصاب غيره."

(كتاب الجنايات، ج:6، ص:530، ط:سعيد)

تكملة فتح الملهم میں ہے:

ثم لم يذكر الفقهاء حكم السيارة لعد وجودها في عصرهم، والظاهر ان سائق اسيارة ضامن لما اتلفته  في الطريق، سواء اتلفته من القدام أو من الخلف."

(تكملة فتح الملهم، ج:2، ص:523)

سائل کا بیٹا حکمی شہید ہے اور  حکمی شہید وہ کہلاتا ہے، جس کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں شہادت کی بشارت وارد ہوئی، چنانچہ ایسا شخص آخرت میں شہداء کی فہرست میں شمار کیا جائے گا، البتہ  دنیا میں اس پر عام میتوں  والے احکام جاری ہوتے ہیں، لہٰذا اگر کسی کا انتقال ایکسیڈنٹ میں ہوا ہو، تو دنیوی احکام کے اعتبار سے تو وہ شہید نہیں کہلائے گا، مگر حکماً یعنی آخرت کے اعتبار سے شہید کہا جاسکتا ہے، یعنی آخرت میں اسے شہیدکادرجہ ہی ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100720

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں