بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

آبائی وطن کو مستقل چھوڑ کر دوسرے مقام میں رہائش اختیار کرنے سے آبائی وطن میں قصر و اتمام کا حکم


سوال

ایک آدمی اپنے وطنِ اصلی (صوابی ) سے کراچی منتقل ہوا اور وہاں کراچی میں اس نے شادی کی، اور اس کے بچے بھی وہیں اس کے ساتھ رہ رہے ہیں، اور وہ کراچی میں اپنا رہائشی مکان بھی رکھتا ہے، اب تک چالیس پچاس سال کا عرصہ گزار چکا ہے اور اپنے آبائی وطن یعنی صوابی میں اس کی صرف جائیداد ہے، باقی آباد مکان وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے۔ شناختی کارڈ میں دونوں مقامات یعنی صوابی اور کراچی کے پتے درج ہیں اور اس کا ارادہ یہ ہے کہ جب تک حالات سازگار ہیں تو کراچی میں رہوں گا، خدانخواستہ اگر کراچی کے حالات خراب ہوئے تو پھر اپنے آبائی وطن صوابی منتقل ہوجاؤں گا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ تین اشیاء یعنی اپنے آبائی وطن میں غیر آباد جائیداد، شناختی کارڈ میں آبائی وطن کا پتہ درج ہونا اور حالات خراب ہونے پر اپنے آبائی وطن منتقل ہونے کا ارادہ رکھنا یہ چیزیں وطنِ اصلی کے بقاء کے اسباب بن سکتے ہیں؟ اور ایسا شخص اپنے آبائی وطن میں نمازوں کی قصر کرے گا یا اتمام؟

2۔ اسی طرح وہ حضرات جن کے آباء و اجداد اپنے آبائی وطن چھوڑ کر کراچی میں آباد ہوئے ہیں اور ان کی پیدائش بھی کراچی میں ہوئی ہے اور عرصہ دراز سے وہ اپنے والدین کے ساتھ کراچی میں رہ رہے ہیں اور آبائی وطن (صوابی) میں فقط غیر آباد زمین رکھتے ہیں، تو ایسے حضرات اپنے آبائی وطن میں نمازوں کی قصر کرے گا یا اتمام؟

چونکہ مذکورہ سوال میں پہلے والے مسئلے کا تعلق باپ اور دوسرے والے مسئلے کا تعلق بیٹے سے ہے تو دونوں کے لیے اپنے آبائی وطن میں قصر و اتمام کا حکم ایک جیسا ہے یا ان دونوں کے حکم میں فرق ہے؟

مسئلۂ ہٰذا میں چونکہ جمِ غفیر مبتلا ہیں، بعض اس میں قصر کے قائل ہیں اور بعض اتمام کےاور مسئلہ کا تعلق بھی دینِ اسلام کے ایک اہم اور بنیادی رکن نماز (فرض عین) کے ساتھ ہے؛ اس لیے مسئلے کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے انتہائی کی غورو خوض کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے آبائی وطن کو مستقل طور پر  چھوڑ کر شرعی مسافت کے بقدر  دور جاکر دوسرے مقام پر مستقل رہائش پذیر ہوجائے اور آئندہ پہلے والے وطنِ اصلی میں مستقل رہائش اختیار کرنے کاکوئی ارادہ نہ ہو (یعنی وہ دوسری جگہ کو وطنِ اصلی بنالے) تو اس کا آبائی وطن اس  کے لیے وطنِ اصلی نہیں رہتا، بلکہ اب اس کا وطنِ اصلی  وہی ہوگا جہاں اس نے مستقل طور پر رہائش اختیار کی ہے، لہٰذا اگر ایسا شخص کبھی کبھی آبائی وطن جاتاہو اور وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہو تو وہاں قصر کرے گا، اتمام نہیں کرےگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے جب اپنے آبائی وطن (صوابی)  کو چھوڑ کر کراچی میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرلی اور وہیں شادی کرکے اپنے بیوی بچوں سمیت رہنے لگا اور فی الحال اپنے آبائی وطن منتقل ہونے کا ارادہ نہیں، تو اب کراچی ہی اس کا وطنِ اصلی ہے، لہٰذا ان کا اپنے آبائی وطن میں غیر آباد جائیداد کا ہونا، شناختی کارڈ میں آبائی وطن کا پتہ درج ہونا اور کراچی کے حالات خراب ہونے پر اپنے آبائی وطن منتقل ہونے کا ارادہ رکھنا، یہ چیزیں ان کے واسطے کراچی کے وطنِ اصلی کے لیے مانع نہیں ہوں گی، چنانچہ مذکورہ شخص جب کبھی اپنے آبائی وطن جائے گا اور وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کا ارادہ ہو تو قصر کرنا ضروری ہوگا، البتہ  جب کبھی پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کے ارادہ سے جانا ہو، تو  پھر اتمام کرے گا۔

2۔ چونکہ جہاں انسان کی پیدائش ہوتی ہے وہی مقام اس کا وطنِ اصلی ہوتا ہے، اس لیے صورتِ مسئولہ میں جن لوگوں کی پیدائش کراچی میں ہوئی ہے، جبکہ ان کے آباء و اجداد اپنے آبائی وطن (صوابی) کو چھوڑ کر کراچی میں سکونت اختیار کرچکے ہیں، تو شریعت کی رو سے کراچی ہی ان کے لیے وطنِ اصلی ہوگا، اگرچہ آبائی وطن (صوابی) میں ان کی زمینیں ہوں، لہٰذا پندرہ دن سے کم رہنے کے ارادے سے آبائی وطن جانا ہو تو وہ وہاں قصر کریں گے، ہاں وہاں اگر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو اتمام کرنا ضروری ہوگا۔

الغرض وہ مقام جہاں کسی کی ولادت ہوئی ہو، یا جب کوئی اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر مسافتِ شرعیہ کے بقدر دور کسی دوسرے  مقام میں مستقل طور پر رہائش اختیار کرلے اور آبائی وطن واپس جانے کا کوئی ارادہ نہ ہو، تو وہ مقامِ ولادت یا مقامِ رہائش ہی اس کا وطنِ اصلی ہوتا ہے، آبائی وطن اس کے لیے وطنِ اصلی نہیں رہتا، لہٰذا مذکورہ سوال میں باپ اور بیٹا دونوں کا حکم ایک جیسا ہے، چنانچہ جب وہ پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت سے اپنے آبائی وطن جائیں گے تو وہاں قصر کرنا ضروری ہو گا، البتہ اگر پندرہ دن یا اس سے زائد رہنے کا ارادہ ہو تو اتمام کریں گے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته.

وفي الرد: (قوله أو تأهله).... ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. اهـ. (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية."

(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر:ج،2:ص،131:ط، سعید)

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا السفر ووطن الإقامة بمثله والسفر والأصلي) ؛ لأن الشيء يبطل بما هو مثله لا بما هو دونه فلا يصلح مبطلا له وروي أن عثمان رضي الله عنه كان حاجا يصلي بعرفات أربعا فاتبعوه فاعتذر، وقال: إني تأهلت بمكة وقال النبي صلى الله عليه وسلم "من تأهل ببلدة فهو منها" والوطن الأصلي هو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها وهذا الوطن يبطل بمثله لا غير، وهو أن يتوطن في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا حتى لو دخله مسافرا لا يتم قيدنا بكونه انتقل عن الأول بأهله؛لأنه لو لم ينتقل بهم، ولكنه استحدث أهلا في بلدة أخرى فإن الأول لم يبطل ويتم فيهماوقيد بقوله بمثله؛ لأنه لو باع داره ونقل عياله وخرج يريد أن يتوطن بلدة أخرى ثم بدا له أن لا يتوطن ما قصده أولا ويتوطن بلدة غيرها فمر ببلده الأول فإنه يصلي أربعا؛ لأنه لم يتوطن غيره،وفي المحيط، ولو كان له أهل بالكوفة، وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل البصرة لا تبقى وطنا له؛ لأنها إنما كانت وطنا بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنا له، وقيل تبقى وطنا له؛ لأنها كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر."

(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:147، ط:دار الكتاب الإسلامي القاهرة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144610102010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں