بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وقتی جنسی کمزوری کی شرعی حیثیت اور اس کے نکاح و مہر پر اثرات


سوال

ایک شخص نے عقدِ نکاح کے بعد اپنی بیوی کو مختلف شرائط کے ساتھ طلاق کا اختیار دے دیا، جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ : "اگر  وہ  نامرد ہو"۔ بعد ازاں اس نے اپنی بیوی کے ساتھ چار راتیں ہمبستری کرنے کی کوشش کی (پھر اس کی بیوی اس کے ساتھ نہ رہی)۔ لیکن ان چند دنوں میں سے کسی دن بھی وہ بیوی سے مباشرت نہ کرسکا، کیونکہ اس کا عضوِ تناسل اتنی مقدار میں سخت و قائم نہ ہوسکا کہ دخول کر پاتا۔ {وضاحت یہ ہے کہ: ۱۔ اس کی مکمل کیفیت یہ تھی کہ فور پلے کے دوران اس کا عضو مکمل طور پر تناؤ میں آجاتا تھا، لیکن ہمبستری شروع کرنے کے عین وقت ڈھیلا پڑ جاتاتھا، جس کی وجہ سے وہ مباشرت نہیں  کرسکتا تھا۔

البتہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے عضو کے کھڑا ہونے کی قوت پہلے سے زیادہ بہتر ہو رہی تھی، لیکن اتنی نہ ہوئی کہ دخول ہوسکے۔ ۲۔ ایک تجربہ کار مسلمان جنسی ماہر ڈاکٹر نے اس شخص کے تمام حالات سن کر اور اس کا طبی و جسمانی معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اس میں جنسی ناتوانی کی کوئی وجہ موجود نہیں۔ جو کچھ ہوا وہ محض پہلی بار کے عدم تجربے اور نفسیاتی  حالات کی بنیاد پر ایک ردِ عمل ہے، جسے طبّی زبان میں “Situational Performance Anxiety” کہا جاتا ہے (جو گھبراہٹ، ذہنی دباؤ، ضرورت سے زیادہ توقعات اور کارکردگی پر غیر معمولی توجہ وغیرہ کی وجہ سے پیش آتا ہے)۔ یعنی یہ مسئلہ وقتی ہے، جو چند دنوں میں دور ہوجائے گا اور وہ بیوی سے ہمبستری پر قادر ہوجائے گا۔}

1۔ ۔کس قسم کی جنسی ناتوانی کی وجہ سے عورت شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرسکتی ہے یا طلاق حاصل کرسکتی ہے: وقتی ناتوانی کی وجہ سے یا دائمی ناتوانی کی وجہ سے؟

2۔ ۔شریعت کی نظر میں کیا مذکورہ شخص کو جنسی ناتواں یعنی عنین شمار کیا جائے گا؟

3۔ ان چند دنوں کے حالات کی بنیاد پر کیا اس شخص کی بیوی فوراً شوہر کی جنسی ناتوانی کا عذر پیش کرکے اپنے اوپر طلاق نافذ کرسکتی ہے؟ یا شوہر کو ایک سال کی مہلت دینا ہوگی، پھر اگر وہ صحتیاب (جنسی طور پر قادر) نہ ہوا تو تب وہ طلاق حاصل کرسکے گی؟ 4۔ اگر اس شخص کی بیوی مذکورہ وجہ پیش کرکے ابھی اپنے اوپر طلاق واقع کردے، تو کیا وہ مکمل مہر کی حقدار ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ شخص عارضی طور پر جنسی کمزوری کا شکار ہو ،اور کسی ماہر و دیندار ڈاکٹر نے بھی اس کی تصدیق کردی ہو کہ یہ دائمی عجز نہیں بلکہ وقتی و نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے ہے، تو اس کی شرعی حیثیت درج ذیل ہوگی:

1۔عورت کو شوہر سے علیحدگی کا حق اس وقت حاصل ہوتا ہے جب شوہر دائمی طور پر جنسی عجز میں مبتلا ہو اور اس کے اچھے ہونے کی کوئی توقع نہ ہو، محض وقتی کمزوری یا نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے مباشرت کے قابل  نہ ہوپانا مفوضہ طلاق کے واقع کرنے کا موجب نہیں ہوگا۔

2۔شریعت میں عنین ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو ابتداء ہی سے صحبت پر بالکل قادر نہ ہو اور آئندہ بھی صحتیاب ہونے کی امید نہ ہو،  لہذا مذکورہ شخص کا عنین ہونا جب تک ثابت نہ ہوجائے  اس وقت تک مفوضہ طلاق واقع کرنے کا بیوی کو اختیار نہیں ہوگا۔

3۔اگر عورت شوہر کے جنسی عجز کی بناء پر علیحدگی اختیار کرنا  چاہتی ہو، تو  اسے چاہئے کہ شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرے،شوہر اگر طلاق یا خلع دے دے،تو تکمیل عدت کے بعد اس کے لئے کسی اور سے نکاح کرنا جائز ہوگا،البتہ اگر شوہر طلاق یا خلع دینے کے لئے تیار نہ ہو ،تو پھر مذکورہ خاتون کو عدالت سے رجوع کرکے مذکورہ شخص سے اپنا نکاح گواہوں کے ذریعہ سے ثابت کرنا ضروری ہوگا،اس کے بعد شوہر کے نامرد ہونے کی بنیاد پر عدالت سے تنسیخ نکاح کا مطالبہ کرنا لازم ہوگا،جس کے بعد عدالت شوہر کو طلب کرکے اس کا علاج معالجہ کروانے کے لئے ایک سال کی مہلت دے گی،اس دوران اگر شوہر نے وظیفہ زوجیت (صحبت)ادا کرلی،تو تنسیخ نکاح کا معاملہ عدالت خارج کردے گی،بصورت دیگر نکاح فسخ کرادیا جائے گا۔

4۔مہر کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ  میسر آجائے، تو پھر  بیوی  پورے مہر کی مستحق ہوتی ہے، چاہے صحبت نہ ہوئی ہو۔ مذکورہ واقعہ میں چونکہ خلوت صحیحہ ہوچکی ہے، اس لیے اگر بعد میں فسخ یا طلاق کی نوبت آئے تو مذکورہ خاتون مکمل  مہر کی حقدار ہوگی۔

جیساکہ المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے:

"حدثنا محمد بن النضر الأزدي، ثنا أبو غسان، ثنا قيس بن الربيع، أنا الركين بن الربيع بن عميلة، عن أبيه، عن عبد الله، قال: «يؤجل العنين سنة، فإن وصل إليها وإلا فرق بينهما، ولها الصداق»"

(باب، ج:  9، ص: 343، رقم الحدیث: 9706، ط: مکتبة ابن تیمیة، القاهرة)

البحرالرائق میں ہے:

"ولو مجبوبا أو عنینا أو خصیا أی الخلوۃ بلا الموانع المذکورۃ کالوطئ ولو کان الزوج مجبوبا أو نحوہ فلہا کمال المہر بعد الطلاق والخلوۃ۔"

(کتاب النکاح، باب المہر، ج: 3، ص: 155، ط: زکریا)

ملتقی الابحر میں ہے:

"وإذا خلا بہا بلا مانع من الوطئ حسا أو شرعا أو طبعا کمرض یمنع الوطئ  ورتق وصوم رمضان و إحرام  فرض أو نفل و حیض و نفاس لزمہ تمام المہر ولو کان خصیا أو عنینا و کذا لو کان مجبوبا۔" (کتاب النکاح، ج: 1، ص: 515، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: فرق الحاكم) وهو طلاق بائن كفرقة العنين بحر عن الخانية، ولها كل المهر، وعليها العدة إن خلا بها عنده. وعندهما لها نصفه كما لو لم يخل بها بدائع"

(کتاب الطلاق، باب العنین، ج: 3، ص: 496،ط: ایچ ایم سعید)

وفیه أ یضا:

"وغيره (هو) لغة من لا يقدر على الجماع فعيل بمعنى مفعول جمعه عنن. وشرعا (من لا يقدر على جماع فرج زوجته) يعني لمانع منه ككبر سن، أو سحر، إذ الرتقاء لا خيار لها للمانع منها خانية. (إذا وجدت) المرأة (زوجها مجبوبا) ، أو مقطوع الذكر فقط أو صغيره جدا كالزر، ولو قصيرا لا يمكنه إدخاله داخل الفرج فليس لها الفرقة بحر، وفيه نظر.(فرق) الحاكم بطلبها لو حرة بالغة غير رتقاء وقرناء وغير عالمة بحاله قبل النكاح وغير راضية به بعده (بينهما في الحال) ولو المجبوب صغيرا لعدم فائدة التأجيل.(فلو جب بعد وصوله إليها) مرة (أو صار عنينا بعده) أي الوصول (لا) يفرق لحصول حقها بالوطء مرة.(ولو وجدته عنينا) هو من لا يصل إلى النساء لمرض أو كبر، أو سحر ويسمى المعقود وهبانية (أو خصيا) لا ينتشر ذكره، فإن انتشر لم تخير بحر،(أجل سنة) لاشتمالها على الفصول الأربعة، ولا عبرة بتأجيل غير قاضي البلدة (قمرية) بالأهلة على المذهب وهي ثلثمائة وأربعة وخمسون يوما وبعض يوم، وقيل: شمسية بالأيام وهي أزيد بأحد عشر يوما، قيل وبه يفتى، ولو أجل في أثناء الشهر فبالأيام إجماعا (ورمضان وأيام حيضها منها) .ويؤجل من وقت الخصومة ما لم يكن صبيا، أو مريضا أو محرما، فبعد بلوغه وصحته وإحرامه؛ ولو مظاهرا لا يقدر على العتق أجل سنة وشهرين (فإن وطئ) مرة فبها (وإلا بانت بالتفريق) من القاضي إن أبى طلاقها (بطلبها) يتعلق بالجميع، فيعم امرأة المجبوب كما مر ولو مجنونة بطلب وليها."

(کتاب الطلاق، باب العنین، ج: 3، ص: 494،95،96،97،98،ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101907

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں