
دوآدمیوں میں یہ معاہدہ طےپایاکہ ایک آدمی کی زمین ہےدوسرااس میں گھرتعمیرکرکےرہےگا جب تعمیروالافوت ہوجائے یا وہاں سے کسی اور ملک چلاجائےتو زمین والاتعمیر والے کو تعمیر یعنی ملبے کا خرچہ دےگا، اب دونوں میں کچھ اختلاف پیداہوگیاہے، تعمیروالاباہرملک چلاگیا ہے، زمین والے نے اس کے گھر اور سامان پر قبضہ کرلیا ہے اور گھروالے کی اجازت کے بغیر وہاں رہ رہا ہے، سوال یہ ہےکہ کیا تعمیروالااپنےسامان اورتعمیرکےملبےکاحق دار ہے یانہیں؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ دونوں شخصوں کےدرمیان جومعاہدہ طےپایاتھی اس کی شرعی حیثیت عاریۃ کی ہےیعنی زمین والےنے مکان والےکوایک معین مدت کے لیے بلا عوض زمین سے فائدہ اٹھانےکی اجازت دی ہے،مکان والےنےجب اس کی اجازت سےمکان تعمیرکیاہےتوشرعاًوہ اس تعمیرکامالک ہے،لہذامکان والےکےوہاں سےچلےجانےکےبعدزمین والےکامکان والےکوتعمیرکاعوض دیےبغیراس پرقبضہ کرناشرعاًجائزنہیں ہے ، زمین والااگرمکان والےکومکان کی تعمیر کاخرچہ اداکردےتواس تعمیر کا مالک بن جائے گا، نیز اس مکان میں جوسامان ہےوہ بھی صاحب مکان ہی کاہےزمین والےکااس سامان پرقبضہ کرناشرعاًجائزنہیں ہے۔
الدرالمختاروحاشية ابن عابدين :
"(ولو أعار أرضا للبناء والغرس صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه (وإن وقت) العارية (فرجع قبله) كلفه قلعهما (وضمن) المعير للمستعير (ما نقص) البناء والغرس (بالقلع) بأن يقوم قائما إلى المدة المضروبة، وتعتبر القيمة يوم الاسترداد بحر ..... قوله مقلوعين ... وفيه رمز إلى .. أن لا ضمان في الموقتة بعد انقضاء الوقت، فيقلع المعير البناء والغرس إلا أن يضر القلع؛ فحينئذ يضمن قيمتهما مقلوعين لا قائمين كما في المحيط."
(کتاب العاریة، ج: 5، ص: 681، ط: سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج: 4، ص: 61، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612101349
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن