
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مالکِ مکان کی اجازت سے اس کے مکان میں چند ماہ کے لیے رہائش پذیر ہوجائے، دورانِ رہائش زلزلہ، بارش، سیلاب یا آندھی کی صورت میں مکان کی کسی دیوار وغیرہ کو نقصان پہنچ جائے، جب کہ اس میں رہائش پذیر شخص کی طرف سے کوئی غلطی نہ ہو، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا رہائش پذیر شخص پر اس کا تاوان لازم ہے یا نہیں؟
کسی کے مکان میں مالکِ مکان کی اجازت سے رہنا شرعاً عاریت کہلاتا ہے۔عاریت کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو کوئی چیز عاریتاً دی جائے اس پر اس کی حفاظت ضروری ہوتی ہے۔ اگر وہ چیز اس شخص کی غفلت یا سستی کی وجہ سے ہلاک ہوجائے یا اس میں نقصان پیدا ہوجائے تو وہ شخص اس نقصان کا ضامن ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ چیز اتفاقی طور پر بلا تعدّی (یعنی اس کی کسی غلطی کے بغیر) نقصان کا شکار ہوجائے تو پھر وہ شخص ضامن نہیں ہوتا۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مکان کو نقصان زلزلہ، بارش، سیلاب یا آندھی کی وجہ سے پہنچا ہے، اور اس میں رہائش پذیر شخص کی کوئی کوتاہی نہیں ہے، تو ایسی صورت میں رہائش پذیر شخص ضامن نہیں ہوگا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان حال المستعار: فحاله أنه أمانة في يد المستعير في حال الاستعمال بالإجماع، فأما في غير حال الاستعمال فكذلك عندنا، وعند الشافعي رحمه الله مضمون....
(ولنا) أنه لم يوجد من المستعير سبب وجوب الضمان، فلا يجب عليه الضمان كالوديعة والإجارة."
(کتاب العاریة، فصل في بيان حال المستعار، ج:6، ص:217، ط:دار الکتب العلمیة)
وفیه أیضاً:
"وأما بيان ما يوجب تغير حالها فالذي يغير حال المستعار من الأمانة إلى الضمان، ما هو المغير حال الوديعة، وهو الإتلاف حقيقة أو معنى بالمنع بعد الطلب أو بعد انقضاء المدة، وبترك الحفظ، وبالخلاف."
(كتاب العارية، فصل في بيان ما يوجب تغير حال المستعار من الأمانة إلى الضمان، ج:6، ص: 218، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا تضمن بالهلاك من غير تعد) وشرط الضمان باطل كشرط عدمه في الرهن خلافا للجوهرة.
(قوله بالهلاك) هذا إذا كانت مطلقة فلو مقيدة كأن يعيره يوما فلو لم يردها بعد مضيه ضمن إذا هلكت كما في شرح المجمع وهو المختار كما في العمادية اهـ قال في الشرنبلالية: سواء استعملها بعد الوقت أو لا، وذكر صاحب المحيط وشيخ الإسلام: إنما يضمن إذا انتفع بعد مضي الوقت؛ لأنه حينئذ يصير غاصبا أبو السعود."
(كتاب العارية، ج:5، ص:678، ط: دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706101178
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن