
میں نے شادی کے موقع پر اپنی بیوی کو اپنی بہن سے لے کر سونا اس نیت سے دیاکہ وہ استعمال کرلے، اور بیوی سے کہا بھی کہ یہ سونا فی الحال استعمال کروزیب وزینت کے طور پر، لیکن شادی کے بعد پھر میں یہ سونا اپنی بہن کو واپس دوں گا، نکاح کے وقت بیوی کا مہر میں نے الگ سے مقرر کیا تھا کہ اگر میں اس کو طلاق دوں گا تو پھر اس صورت میں پانچ لاکھ روپے اس کو دوں گا۔اب میری بیوی وہ سونا لے کر اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہے، اور عدالت میں تنسیخِ نکاح کا دعوٰی دائر کیا، اور عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ میری بیوی یہ کہہ رہی ہے کہ یہ سونا گفٹ ہے، میں واپس نہیں دوں گی، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے بہن سے سونا لے کر بیوی کو استعمال کی نیت سے دیا تھا اور بیوی کو اس بات کی وضاحت کردی تھی تو اس صورت میں یہ سونا بیوی کے پاس عاریت کے حکم میں تھا، گفٹ نہیں تھا؛ لہٰذا بیوی پرشرعًا سونا واپس کرنا واجب ہے،وہ سونا اپنے پاس رکھ لینا اور واپس نہ کرنا نا جائز اور گناہ ہے ، نبی کریم ﷺ نے کسی مسلمان کا مال ناحق طریقے سے اس کی رضامندی کے بغیر لینے سے منع فرمایا ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
" وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى. "
( باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، ج:2، ص:889، ط:المکتب الاسلامی )
مبسوطِ سرخسی میں ہے:
" العارية: تمليك المنفعة بغير عوض."
( كتاب العارية، ج:11، ص:133، ط:دار المعرفة )
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
(المادة 806) للمعير أن يرجع عن الإعارة متى شاء
" للمعير أن يرجع عن الإعارة متى شاء ليست العارية عقدا لازما وإنما هي من التبرعات.بناء عليه لكل من الطرفين حق فسخ الإعارة (انظر شرح المادة 114) مسائل متفرعة عن ذلك.
أولا - للمعير أن يرجع عن الإعارة متى شاء ويسترد المعار ولو لم يستعمل المستعير العارية سواء أكانت الإعارة مؤقتة أم مقيدة أم لم تكن (تكملة رد المحتار). وسواء كان المستعار عرصة أو مزرعة أعيرت للبناء أو الزرع وسواء أكان خلافهما أو كان في رجوع المعير عن العارية ضرر بين في حق المستعير أو لم يكن. ويفهم مما سيأتي من الإيضاحات في شرح المادة (832) أنه ليس لهذه المادة مستثنى ويثبت جواز الرجوع عن العارية على نوعين: أولهما - الدليل الشرعي، وقد جاء في الحديث الشريف أن «المنحة مردودة والعارية مؤداة» (العناية). ثانيهما الدليل العقلي. وهو أنه لما كانت المنافع تحدث شيئا فشيئا والملك في المنافع المذكورة يثبت بحدوث المنافع " لأن ثبوت الملك في المعدوم مستحيل فالرجوع عن الإعارة أي الامتناع عن تمليك المنافع التي لم تثبت بعد عائد للمعير أي من صلاحيته " زيلعي."
( الكتاب السادس الأمانات، الباب الثالث في العارية، الفصل الأول في بيان المسائل المتعلقة بعقد الإعارة وشروطها، ج:2، ص:339/340، ط:دار الجیل )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101830
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن