بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی نوعیت کیا تھی ؟


سوال

نبی علیہ السلام کی انگوٹھی کےپہننے کے  بارے  میں صحیح حوا لہ جات کی  رہنمائی فرمائیں۔

جواب

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چاندی کی  انگوٹھی پہننا ثابت ہے،اور آپ سے انگوٹھی بنوانے کا سبب خود آپ سے منقول ہے کہ آپ نے اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے لیے عجم کے  سرداروں کی طرف خطوط بھیجنے کا سلسلہ شروع  فرمایاتو آپ کے صحابہ میں سے کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ : یہ لوگ بغیر مہر کے خطوط کو قبول ہی نہیں کرتے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے  چاندی کی انگوٹھی بنوائی، جس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور اس پر'' محمد رسول اللہ ''نقش ہوا تھا، بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ نقش تین سطروں پر مشتمل تھا، پہلی سطر میں محمد، دوسری سطر میں رسول، اور تیسری سطر میں لفظ ِ اللہ نقش ہو اتھا۔

دیگر بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے مہر کے لیےجو انگوٹھی بنوائی تھی اس کا نگینہ حبشی تھا، الغرض حاصل یہ ہے کہ آپ سے چاندی کی انگوٹھی پہننا ثابت ہے، اور عام لوگوں کے لیے چاندی کی انگوٹھی  چار ماشے سے کم وزن کی بنانے  کی شرعاً اجازت ہے،اس کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا شرعاً درست نہیں ہے۔ 

مسلم شریف میں ہے :

"حدثنا عثمان بن أبي شيبة وعباد بن موسى. قالا: حدثنا طلحة بن يحيى (وهو الأنصاري ثم الزرقي) عن يونس، عن ابن شهاب، عن أنس بن مالك؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس خاتم فضة في يمينه. فيه فص حبشي. كان يجعل فصه مما يلي كفه."

(كتاب اللباس والزينة، باب: في خاتم الورق فصه حبشي، ج : 6، ص : 220، رقم الحدیث : 5481، ط : بشری)

سنن الترمذی میں ہے :

"حدثنا محمد بن بشار ومحمد بن يحيى وغير واحد ، قالوا: حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، قال: حدثني أبي ، عن ثمامة،عن أنس قال: "كان نقش خاتم النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة أسطر، محمد سطر ورسول سطر، والله سطر، ولم يذكر محمد بن يحيى في حديثه ثلاثة أسطر."

وفي الباب عن ابن عمر حديث أنس حديث حسن صحيح."

(‌‌أبواب اللباس، باب ما جاء في نقش الخاتم، ج:3، ص:550، رقم الحدیث:1810، ط:بشری)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101218

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں