بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکری اور اونٹنی کا دودھ نوش فرمانا ثابت ہے


سوال

نبی ﷺ گرم دودھ پیتے تھے یا ٹھنڈا؟ اور وہ کس جانور کا دودھ پیتے تھے؟ کیا آپ ﷺ نے کبھی گائے یا بکری کا دودھ پیا ہے؟

جواب

احادیث ِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے  مطلقاً دودھ پینا تو  ثابت ہے،لیکن کس جانور کا  دودھ نوش فرماتے تھے ؟ اس حوالے سے روایات میں صراحتا ً  صرف بکری کے دودھ پینے کا  ثبوت ملتا ہے،نیز اونٹنی کے دودھ کا چوں کہ عرب میں کثرت سے رواج تھا، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو اونٹنی کا دودھ پینے کا حکم بھی فرمایاہے،البتہ آپ نے بنفس ِ نفیس خود بھی نوش فرمایا ہو اس حوالے سےباوجود تتبع اور تلاش کرنے کے  کوئی صریح روایت نہیں مل سکی۔

 گائے کا دودھ پینے کے متعلق روایات میں اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ  یہ شفاء کا ذریعہ ہے،البتہ   آپ علیہ السلام سے  گائے کے دودھ  نوش فرمانے کے متعلق بھی  کوئی  روایت صراحت سے  نہیں ملی ۔

نیز  ٹھنڈا  اور  گرم دودھ پینے کے متعلق جو دریافت کیا ہے اس میں  انسان کی طبائع کو بڑا دخل ہے،  ہر شخص اپنی طبیعت کے موافق چیز پسند کرتا ہے،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قسم (ٹھنڈا یا گرم) کا دودھ نوش فرماتے تھے تو اس حوالے سے بھی کوئی صریح روای نہیں مل سکی،البتہ اتنی بات ضرور ثابت ہے کہ آپ نے انتہائی گرم چیزوں کو کھانے یا پینے سے منع فرمایا ہے۔

صحیح البخاری میں ہے :

"حدثني محمود: أخبرنا النضر: أخبرنا شعبة، عن أبي إسحق قال: سمعت البراء رضي الله عنه قال:قدم النبي صلى الله عليه وسلم من مكة وأبو بكر معه، قال أبو بكر: مررنا براع وقد عطش رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال أبو بكر رضي الله عنه: فحلبت كثبة من لبن في قدح، فشرب حتى رضيت، وأتانا سراقة بن جعشم على فرس فدعا عليه، فطلب إليه سراقة أن لا يدعو عليه وأن يرجع، ففعل النبي صلى الله عليه وسلم."

(کتاب الاشربة، باب: شرب اللبن، ج : 3، ص : 2534، رقم الحدیث : 5607، ط : بشری)

المستدرک علی الصحیحین میں ہے :

"حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، وأبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي بمرو، قالا: ثنا أبو قلابة عبد الملك بن محمد الرقاشي، ثنا أبو زيد سعيد بن الربيع، ثنا شعبة، عن الركين بن الربيع، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما أنزل الله من داء إلا وقد أنزل له شفاء وفي ألبان البقر شفاء من كل داء» هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه " وقد رواه أبو عبد الرحمن السلمي، وطارق بن شهاب، عن عبد الله بن مسعود."

(کتاب الطب، ج : 4، ص : 218، رقم الحدیث : 7423، ط : دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102104

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں