بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آنکھ میں دوائی کے قطرے ڈالنے کا حکم


سوال

روزہ کی حالت میں ڈاکٹر کے مشورے سے آنکھوں میں دوا کے قطر ےڈالنے سے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنےکے بارے میں شرعی کیا احکامات ہیں۔

جواب

وا ضح رہے کہ صورت  مسئولہ  میں آنکھ میں دوائی کے قطرے ڈالنے  اور سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا بأس أن يكتحل الصائم بالإثمد وغيره، ولو فعل لا يفطره، وإن وجد طعمه في حلقه عند عامة العلماء لما روينا «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم اكتحل وهو صائم» ولما ذكرنا أنه ليس للعين منفذ إلى الجوف، وإن وجد في حلقه فهو أثره لا عينه، ولا بأس أن يدهن لما قلنا، وكره أبو حنيفة أن يمضغ الصائم العلك لأنه لا يؤمن أن ينفصل شيء منه فيدخل حلقه، فكان المضغ تعريضا لصومه للفساد فيكره ولو فعل لا يفسد صومه لأنه لا يعلم وصول شيء منه إلى الجوف"

(کتاب الصوم: فصل فی بیان مایسن ومایستحب  للصائم، ج: 2، ص: 106، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100992

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں