بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عامل سے چور معلوم کروانے کا حکم


سوال

میری بہن کے سسرال میں   اس کے دیور کی جیب سے ساٹھ ہزار روپے چوری  ہوئے ہیں، تو سسرال والے عامل کے پاس گئے، اس نے بتایا کہ یہ پیسے میری بہن نے چرائے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ  کیا اس سے چوری ثابت ہو گی؟اور اس قسم کے لوگوں کے پاس جانا اور چوری کے متعلق پوچھنا درست ہے؟اس طرح پوچھنے والوں پر گناہ ہو گا یا نہیں؟   

جواب

واضح رہے کہ کسی کو پر چوری   ثابت کرنے کے شرعاً دو طریقے ہیں:

۱: ملزم خود جرم کا اعتراف کرے۔

۲:یا شرعی شہادت کے ذریعے جرم ثابت کیا جائے،اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے کسی کو مجرم ثابت نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ اگر انسانوں کی گواہی میں نصابِ شہادت مکمل نہ ہو تو ایسی گواہی کا اعتبار بھی نہیں کیا جا تا۔

دوم یہ کہ عملیات کرنے والے کا عمل کوئی دلیل شرعی نہیں جس کی بنیاد پر کسی کو چور قرار دیا جائے، تاہم   اگر کوئی ایسا عمل(جو قرآن کے مخالف نہ ہو ) کیا جائے جس کے ذریعے کسی کا چوری شدہ مال ملنے کی امید ہو     ، اور وہ عمل کسی ناجائز معاملے(مثلاً بدگمانی غیرہ) کی طرف نہ لے جاتا ہو، تو اس عمل کی گنجائش تو ہے، لیکن اگر وہ کسی دلیل شرعی کے خلاف لے جاتا ہو، جیسا کہ عامل سے عمل کروا کر کسی کو چور قرار دینا یا چور گمان کرنا ؛جو کہ  دلیل شرعی کے خلاف ہےاور یہ بد گمانی ہے جو کہ حرام ہے، تو پھر یہ عمل ناجائز و حرام  ہو گا، اور اس طرح عامل سے عمل کروا کر کسی پر چوری کا الزام لگانا بھی موجب گناہ  کبیرہ ہو گا۔

 لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن کے دیور کے پیسے چوری ہو جانے پر   عامل  سے چور کا معلوم کرنا   اور پھر اس بنیاد پر اس  پر چوری کا الزام لگانا    گناہ کبیرہ ہے، لہذا اس عامل کا سائل کی بہن کو چور بتانےسے سائل کی بہن پر چوری کا الزام ثابت  نہیں ہو گا، بلکہ یہ عامل اور اس کی بات ماننے والے بغیر کسی شرعی ثبوت کے الزام لگانے کی وجہ سے خود گناہ گار ہوں گے ۔

نیز  عاملین کے پاس جا کر ان سے چور معلوم کروا کر کسی پر چوری کا الزام لگانا  اور ان سے  غیب کی خبریں معلوم کرنا  اور ان کی باتوں کی تصدیق کرناشرعاً ناجائز اور موجب گناہ ہے،اور بعض اوقات ایمان کے سلب ہوجانے تک  کا اندیشہ ہوتا ہے ۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال "‌من ‌أتى ‌عرافا ‌فسأله ‌عن ‌شيء ‌لم ‌تقبل ‌له ‌صلاة ‌أربعين ليلة". 

(صحیح المسلم باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان، ج:4، ص:1751، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

ترجمہ : "نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس سے کسی بات کے بارے میں سوال کرے تو اس کی چالیس راتوں تک نماز قبول نہیں ہوتی۔"

شرح النووي على مسلم  میں ہے: 

"كانت الكهانة في العرب ثلاثة أضرب أحدها يكون للإنسان ولي من الجن يخبره بما يسترقه من السمع من السماء وهذا القسم بطل من حين بعث الله نبينا صلى الله عليه وسلم."

(باب تحريم الكهانة وإتيان الكهانة، ج:14، ص:223، ط:دار إحياء التراث العربي بيروت)

 مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وقال النووي: هذا الحدیث قاعدة شریفة کلیة من قواعد أحکام الشرع ففیه أنه لایقبل قول الإنسان فیما یدعیه بمجرد دعواه بل یحتاج إلى بینة أو تصدیق المدعٰی علیه."

(مرقاة المفاتیح، ج7،ص250، ط: مکتبۂ إمدادیہ، ملتان)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  اپنی کتاب” عملیات وتعویذات کے شرعی احکام“  میں لکھتے ہیں کہ:

”فال کھولنایا کسی عمل کے ذریعہ غیب یا آئندہ کی خبریں معلوم کرنااور اس پریقین رکھنا درست نہیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقفُ مَا لَیسَ لَكَ بِهِ عِلمٌۚ﴾          (جس چیز کا تم کو صحیح علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو ) .

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح دلیل کے بغیر جس کا صحیح ہونا قواعد شرعیہ سے ثابت ہو کسی امر کا خواہ وہ اخبار ہو یا انشاء (یعنی کسی بات کی خبر ہو یا کسی امر کا حکم ہو) اس کا اعتقاد درست نہیں ۔

اب عاملوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ خاص طریقوں سے فال کھولتے ہیں۔ اور گذشتہ یا آئندہ کے متعلق خبر دیتے ہیں، یا چور وغیرہ کے معلوم کرنے کے لیے لوٹا گھمانے کا عمل کرتے ہیں اور کسی کا نام بتلا دیتے ہیں اور اس کے مطابق خود بھی یقین کر لیتے ہیں۔ اور دوسروں کو بھی یقین دلاتے ہیں ۔یا ایسا کوئی عمل جس سے کوئی خواب نظر آئے بتلا کر جو کچھ خواب میں نظر  آئے اس پر پورا اعتماد کر لیتے ہیں اور اس کا نام استخارہ رکھتے ہیں۔ یہ سب غیب کی خبروں کا دعویٰ ہے۔ کیوں کہ شریعت نے ان واسطوں کے ذریعہ کسی خبر کےعلم کو مفید اور معتبر نہیں قرار دیا۔۔۔ ۔ مذکورہ آیت ایسے امور کو باطل کرتی ہے۔ اسی طرح حدیث بھی ان سب کو باطل کرتی ہے، چنانچہ ارشاد ہے ۔

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أتی عرافا فسئله عن شيء لم تقبل له صلوة أربعين ليلة، رواه مسلم."

ترجمہ : ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عراف (یعنی غیب کی خفیہ باتیں بتانے والے) کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھا ایسے شخص کی چالیس روز تک نماز قبول نہ کی جائے گی۔“

(ص:112، ط:ادارۂ تالیفات اشرفیہ ملتان)

امداد الفتاوی میں ہے:

”سوال (۴۸) زید قرآن شریف کی کوئی آیت پڑھ کر ایک برتن پر دم کرتا ہے ، ایک دوسرا شخص اس برتن کو پکڑ لیتا ہے پھر بر تن میں ایک قسم کی حرکت پیدا ہوتی ہے ، اگر کسی ساحر نے اس پر سحر کیا ہے تو جہاں سحر ہے وہاں یہ چلا جاتا ہے ، اور اگر کسی درخت پر کیا ہے تو درخت پر چڑھنا چاہتا ہے ، اگر کسی کا مال چوری ہوا ہے تو جہاں مال ہے وہاں پر چلا جاتا ہے ۔ یہ زیدکا عمل جا ئز ہے یا نا جائزہے ،  اگر حرام ہے تو کس دلیل سے ؟

الجواب : یہ عمل فی نفسہ جائز ہے، اب یہ دیکھنا چاہیئے کہ کسی امرنا جائز کی طرف مفضی تو نہیں ہوتا ، یا ہوتا ہے ، اگر ہوتا ہے تو اس عارض کی وجہ سے لغیرہ نا جائزہ ہو جائے گا، مثل اس عمل کے ذریعہ سے کسی شخص کو چور سمجھنا جو کہ خلاف ہے نص ولا تقف ما ليس لك به علمه کے کیونکہ علم سے مراد دلیل شرعی ہے اور ایسے اعمال دلیل شرعی نہیں ۔ اور اگر امرنا جائز کی طرف مفضی نہیں ہوتا تو پھر بالکل جائزہے مثلاً اس امر کے ذریعہ سے مال مل جانا یا سحر باطل ہو جانا ۔ خلاصہ یہ کہ فی نفسہ جائز اور اگر مقدمہ حرام کا بن جائے تو نا جائز۔“

(تعويذات وعمليات، ج:4، ص:86، ط:مكتبۂ دارالعلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100259

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں