بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عام پانی میں آبِ زمزم ملاکر فروخت کرنے کا حکم


سوال

میرے پاس حج کمپنیاں ہیں، 2004 سے ہر سال 400 سے 500 حجاج حج کے لیے مکہ مکرمہ جاتے ہیں،  میرے پاس زم زم کا پانی بہت زیادہ ہے،  میں زم زم کے پانی کے کچھ قطرے منرل واٹر کی بوتلوں میں ملا کر "منرل واٹر پلانٹ" کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں، لیکن میں زم زم کا پانی مفت شامل کرتا ہوں،  میں شہروں میں مخصوص بڑے مالز پر فروخت کرنے کا سوچتا ہوں،  اور میں منافع میں سے2.50% مدرسہ، مسجد اور غریبوں کے لیے رقم مقرر کروں گا،  میں زم زم کا پانی صرف انسان کے روح اور جسم کے علاج کے لیے مفت شامل کرنا چاہتا ہوں،  جناب یہ کاروبار اسلامی نقطہ نظر سے قابل قبول ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ علماء کرام نے آبِ زمزم اور عام پانی کو  محفوظ کرلینے کے بعد فروخت کرنا جائز لکھا ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، اور یہ ہی حکم آبِ زمزم کو پانی میں ملا کر بیچنے کا ہو گا۔ البتہ اس میں یہ ملحوظ رہے کہ اس طرح کا پانی استنجاء وغیرہ  میں استعمال نہ ہو، کیوں  عام پانی میں تھوڑا سا بھی آبِ   زمزم ملانے کی صورت میں وہ تمام پانی بابرکت کہلا تا ہے، لہذا اگر بے ادبی کا اندیشہ ہو تو اس طرح کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أنواع المياه فنقول: المياه أربعة أنواع: الأول: ‌الماء ‌الذي ‌يكون ‌في ‌الأواني والظروف والثاني الماء الذي يكون في الآبار والحياض والعيون والثالث ماء الأنهار الصغار التي تكون لأقوام مخصوصين والرابع: ماء الأنهار العظام كجيحون وسيحون ودجلة والفرات ونحوها أما بيان حكم كل نوع منها على القسمة أما الأول فهو مملوك لصاحبه لا حق لأحد فيه؛ لأن الماء وإن كان مباحا في الأصل لكن المباح يملك بالاستيلاء إذا لم يكن مملوكا لغيره كما إذا استولى على الحطب والحشيش والصيد فيجوز بيعه كما يجوز بيع هذه الأشياء. وكذا السقاءون يبيعون المياه المحروزة في الظروف، به جرت العادة في الأمصار وفي سائر الأعصار من غير نكير فلم يحل لأحد أن يأخذ منه فيشرب من غير إذنه."

(كتاب الشرب، ج: 6، ص: 188، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌بيع ‌الماء ‌في ‌بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي."

(كتاب البيوع، الباب التاسع فيما يجوز بيعه وما لا يجوز، الفصل السابع في بيع الماء والجمد، ج: 3، ص: 121، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144701100578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں