
(الف)۔میرے بہنوئی HBL بینک میں نوکری کرتے ہیں، ان کی آمدنی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ہم انہیں سمجھاتے ہیں کہ بینک کی نوکری چھوڑ کر حلال روزی تلاش کریں، مگر وہ کہتے ہیں کہ کئی سالوں سے کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی مناسب نوکری نہیں مل رہی۔ جو نوکریاں ملتی ہیں وہ بہت کم تنخواہ والی ہوتی ہیں جن سے بیوی بچوں کا خرچ چلانا ممکن نہیں ،اب وہ کہتے ہیں کہ اگر بینک چھوڑ دوں تو بالکل بے روزگار ہو جاؤں گا۔ ایسی صورت میں ہم نے انہیں کہا کہ کم از کم بینک کی اسلامی برانچ میں چلے جاؤ تاکہ کچھ بہتری ہو، کیونکہ بعض علماء کے نزدیک اسلامی بینکنگ کی اجازت بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان کا اسلامی برانچ میں چلے جانا صحیح ہوگا؟ اور موجودہ حالت میں ان کے لیے کیا بہتر ہے؟
(ب)۔چونکہ بہنوئی کی کمائی بینک سے ہے، جب وہ اور بہن ہمارے گھر آتے ہیں تو تحائف لاتے ہیں اور جاتے وقت بچوں کو پیسے بھی دیتے ہیں۔ ہم نے کئی بار انکار کیا مگر وہ پھر بھی دے دیتے ہیں۔ اگر ہم ان کے پیسے نہ لیں تو دل آزاری ہوتی ہے۔
کیا ان کے دیے ہوئے پیسے لینا ہمارے لیے جائز ہوگا، جب کہ ان کی آمدنی کا دوسرا کوئی ذریعہ نہیں؟
(ج)۔میں نے اپنی بہن کے ساتھ کمیٹی ڈالی تھی۔ جب میری کمیٹی نکلی تو بہن کو ضرورت تھی، میں نے وہ رقم اسے دے دی۔ اس نے کہا کہ بعد میں واپس کردوں گی۔ اب وہ بہنوئی (جو بینک میں کام کرتے ہیں) سے پیسے لے کر میرا قرض واپس کرنا چاہتی ہیں۔
کیا میں وہ رقم بہنوئی کی کمائی سے واپس لے سکتا ہوں، جبکہ مجھے خود ان پیسوں کی ضرورت ہے؟
1۔ بینک اپنے ملازمین کو تنخواہ سودی کمائی سے ادا کرتا ہے، نیز بینک کی ملازمت میں سودی معاملات میں تعاون ہے؛ اس لیے بینک میں کسی بھی قسم کی ملازمت جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی تنخواہ حلال ہے، اس لیے سائل کے بہنوئی پر لازم ہے کہ وہ فوراً بینک کی نوکری چھوڑ دیں۔ جب تک دوسری جگہ روزگار نہ مل جائے، مجبوری کی حالت میں عارضی طور پر بینک میں کام کرنے کی گنجائش تو ہے، لیکن اتنے سال گزرنے کے باوجود نئی نوکری نہ ملنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ تلاش میں سنجیدہ نہیں ہیں۔اگر وہ بینک جیسی تنخواہ والی نوکری ملنے کا انتظار کر رہے ہیں تو یہ خواہش پوری ہونا مشکل ہے،حرام و حلال میں آسمان و زمین کا فرق ہے؛ لہذا نوکری ایسی تلاش کرنی چاہیے جیسا کہ بیروزگار کرتا ہے، سائل کو چاہیے کہ انھیں سمجھائیں کہ جلد از جلد بینک کی ملازمت چھوڑیں، ایک بیروزگار کی طرح گزارہ والی نوکری دیکھ لیں ، اللہ پر بھروسا کریں۔ ان شاء اللہ حرام کمائی چھوڑنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ بہتر ذریعہ معاش عطا فرمائیں گے۔ باقی اس ملازمت کو چھوڑ کر کسی مروجہ اسلامی بینک میں ملازمت اختیار کرنا بھی درست نہیں کیوں کہ مروجہ اسلامی بینکوں کا طریقۂ تمویل بھی جمہور اہلِ فتویٰ کے نزدیک اسلامی اور غیر سودی نہیں ہے، بلکہ کئی سودی اور غیری اسلامی معاملات پر مشتمل ہے لہٰذا ایسے اداروں میں ملازمت اختیار کرنا بھی شرعاً جائز نہیں ہو سکتا، نیز اس سے ارتکابِ ناجائز کااحساس باقی نہیں رہے گا؛ لہذا بینک کی ملازمت کے علاوہ کوئی اور جائز ملازمت تلاش کریں۔
2۔ اگر سائل کے بہنوئی بینک کی تنخواہ سے کوئی چیز خرید کر تحفہ دیں تو سائل کے لیے ایسا تحفہ لینا جائز نہیں۔ خاص طور پر جب وہ کئی سال سے اسی نوکری میں ہے تو ان سے بالکل کوئی چیز بھی نہیں لیں تاکہ وہ حلال کمائی تلاش کرنے میں سنجیدہ ہوں اور پوری کوشش کریں۔جب وہ آپ کی دل آزاری کا لحاظ نہیں رکھتی اور حرام مال سے تحفہ دیتی ہے تو آپ اپنی آخرت کا نقصان کر کے ان کی دل داری کرتے رہیں گے؟
3۔جب آپ جانتے ہیں کہ بہن جس رقم سے آپ کا قرض ادا کر رہی ہے وہ حرام مال ہے تو آپ کے لیے وہ قرض اسی رقم سے وصول کرنامکروہ ہے۔ بہن سے کہا جائے کہ وہ کسی اور ذریعے سے حلال پیسے کا بندوبست کرے اور اسی سے قرض واپس کرے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}
ترجمہ:”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو ، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے۔“
[البقرۃ:۲۷۸،۲۷۹-بیان القرآن]
صحیح مسلم میں ہے:
"حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا: حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير ، عن جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء »."
(کتاب البیوع، با ب لعن آکل الربا، ومؤکله، ج:5، ص:50، ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)
ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔“
الدر المختار مع الرد میں ہے:
"(لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) ولو أخذ بلا شرط يباح. وفي المنتقى: امرأة نائحة أو صاحبة طبل أو زمر اكتسبت مالا ردته على أربابه إن علموا وإلا تتصدق به، وإن من غير شرط فهو لها: قال الإمام الأستاذ لا يطيب، والمعروف كالمشروط اهـ. قلت: وهذا مما يتعين الأخذ به في زماننا لعلمهم أنهم لا يذهبون إلا بأجر ألبتة ط."
(كتاب الإجارة، مطلب في الاستئجار على المعاصي، ج:6، ص:55، ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو كان لمسلم على نصراني دين فباع النصراني خمرا وأخذ ثمنها وقضاه لمسلم من دينه جاز له أخذه لأن بيعه لها مباح. ولو كان الدين لمسلم على مسلم فباع المسلم خمرا وأخذ ثمنها وقضاه صاحب الدين كره له أن يقبض ذلك من دينه كذا في السراج الوهاج."
(کتاب البیوع، الباب السابع والعشرون في القرض والدين، ج:5، ص:367، ط:رشیدیة)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
”نا جائز مال سے قرض وصول کرنا
سوال [۸۹۴۲] : کسی مسلمان قرض خواہ کو کسی قرضدار سے اپنا قرضہ وصول کرنا جائز ہے یا نہیں، خواہ وہ قرض دار مسلمان ہو یا غریب ، جب کہ اس کو معلوم ہو کہ یہ مال نا جائز طریقہ سے کمایا ہے، یا نا معلوم ہو، ان دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟ فقط ۔
عبد الرزق جالندھری، مقیم حجرہ نالہ۔
الجواب حامداً ومصلياً:
نا معلوم ہونے کی صورت میں اپنا قرض وصول کرنا درست ہے، اگر اس کا حرام ہونا معلوم ہو تو اس کا لینا غیر مسلم سے درست ہے اور مسلم سے مکروہ ہے:
ولو كان لمسلم على نصراني دين، فباع النصراني خمراً وأخذ ثمنها وقضاه المسلم من دينه، جاز له أخذه؛ لأن بيعه له مباح، ولو كان الدين لمسلم على مسلم، فباع المسلم خمراً وأخذ ثمنها و قضاه صاحب الدين، كره له أن يقبض ذلك من دينه، كذا في السراج الوهاج". فتاوی عالمگیری: ٢٤٨/٤(١) - فقط واللہ سبحانہ تعالی اعلم ۔“
حررہ العبد محمود عفا اللہ عنہ ، ۵۳/۱۱/۱۹ھ۔
(کتاب الحظر والاباحۃ، باب المال الحرام ومصرفہ، ج:18، ص:453، ط:دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101102
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن