بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عالم کی تصویر کو عقیدت سے چومنے کا حکم


سوال

 کسی کی تصویر کو چومنا کیسا ہے اگر چومنے والا شخص اس کو عقیدت سے چومے ؟جبکہ وہ تصویر کسی عالم دین کی ہواور وہ شخص ان سے محبت و عقیدت رکھتا ہو ؟اور جس کی تصویر چومی جائے وہ زندہوتو کیا اس کا یہ عمل جائز ہے ؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ۔

جواب

عالمِ دین  سے محبت ،تعلق اور عقیدت اچھی بات ہے،  اور عالم سے مراد  وہ شخصیت  ہےجو اہل سنت والجماعت  کے بیان کیے ہوئے عقیدہ توحید ورسالت کا قائل ہو،شرک وبدعت سے مجتنب ہو،احکام شریعت پر عمل کرتاہو،شریعت میں جن باتوں سے منع کیا گیا ہے ان سےبچتاہو۔علماء سے تعلق ،محبت اور عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ  آدمی کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرے،اورہر ایسی بات سے بچے جس سے قرآن وسنت میں ممانعت وارد ہوئی ہے۔

اسلام میں  کسی بھی جان دار کی کسی بھی قسم کی تصویر  بلا ضرورتِ شدیدہ  بنانا شرعاً جائز نہیں ہے، اور اس کی  اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  کئی احادیث میں اس سے منع فرمایا ہے۔ اور ایک مسلمان اور سچے امتی  کے لیے یہ وجہ کافی ہے،اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے کئی احادیث میں تصویر بنانےوالے کےلیےسخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔

لہذا صورت ِمسئولہ میں کسی بھی شخص (عام آدمی ہویا عالم )کی کسی بھی قسم کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے،اور نہ ہی اس کی تصویر کو چومنا جائز ہے،اور تصاویر کو عقیدت اور احترام سے دیکھنا اور چومنا غیروں کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں ہے،اور غیروں کے طریقوں کو اپنانے سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے۔

اور آہستہ آہستہ اس طرح شرک کا رستہ کھل جاتا ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن مسروق، عن عبد الله. قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (‌ان ‌أشد ‌الناس ‌عذابا ‌يوم ‌القيامة ‌المصورون)."

(باب: تحريم تصوير صورة الحيوان،ج:3،ص:1670 ،ط:دار إحياء التراث العربي ببيروت)

وفيه ايضا:

"عن النضر بن أنس بن مالك قال: « كنت جالسا عند ابن عباس فجعل يفتي، ولا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى سأله رجل، فقال: إني رجل أصور هذه الصور. فقال له ابن عباس: ادنه، فدنا الرجل، فقال ابن عباس: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من صور صورة في الدنيا، كلف أن ينفخ فيها الروح يوم القيامة، وليس بنافخ ."

(‌‌باب: لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،ج:6،ص:162،ط:دار الطباعة العامرة - تركيا)

البحرالرائق میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث يعني مثل ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم «أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون يقال لهم أحيوا ما خلقتم» ثم قال وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فصنعته حرام على كل حال لأن فيه ‌مضاهاة ‌لخلق ‌الله تعالى وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم ودينار وفلس وإناء وحائط وغيرها."

(باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،تغميض عينيه في الصلاة،ج:2،ص:29،ط:دار الكتاب الإسلامي)

احیاء علوم الدین میں ہے:

"والمحمود ينقسم الى واجب كالحج وطلب العلم الذي هو فريضة على كل مسلم والى مندوب اليه ‌كزيارة ‌العلماء ‌وزيارة ‌مشاهدهم."

(كتاب آداب السفر،ج:2،ص: 249،ط:دار المعرفة - بيروت)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں