
میں ایک سرکاری کالج میں جاب کرتا ہوں۔ چند ناگزیر وجوہات کی وجہ سے میں 27 دن ڈیوٹی سے غیر حاضر رہا۔ کالج انتظامیہ نے ان 27 دنوں کی تنخواہ روک دی اور اعلی افسران کو خط لکھ کر اس صورتحال سے آگاہ کیا اور رہنمائی طلب کی ۔ اس خط کے جواب میں اعلی افسران نے آرڈر جاری کیا کہ مجھے ان 27 دنوں کی تنخواہ جاری کر دی جائے جس کے بعد مجھے ان 27 دنوں کی تنخواہ جاری کر دی گئی۔ کیا میرے لئے ان 27 دنوں کی تنخواہ وصول کرنا جائز ہے؟ وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکورہ اعلیٰ افسران باضابطہ طور پر مسئلہ ہذا سے متعلق فیصلے کرنے کے مجاز ہیں اور ان کو حکومتی سطح پر اس بات کی اجازت ہے کہ وہ کالج کے ملازمین کی چھٹی کے اعذار کو دیکھ کر تنخواہ دینے یا کاٹنے کا فیصلہ کریں تو ایسی صورت میں آپ کی تنخواہ حلال ہو گی۔
اوراگر اعلیٰ افسران تنخواہ سے متعلق فیصلہ کرنے کے مجاز نہ ہوں، بلکہ وہ محض اپنے صوابدید پر ضابطے کے خلاف تنخواہ جاری کرنے کا حکم کریں تو ایسی صورت میں آپ کی تنخواہ حلال نہ ہو گی، تنخواہ مل جانے کی صورت میں حکومت کو واپس کرنا لازم ہو گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"وروي عن النبي - عليه الصلاة والسلام - أنه قال: «المسلمون عند شروطهم» فظاهره يقتضي لزوم الوفاء بكل شرط إلا ما خص بدليل؛ لأنه يقتضي أن يكون كل مسلم عند شرطه."
(كتاب البيوع ، جلد : 5 ، صفحه : 259 ، طبع : دار الكتب العلمية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101270
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن