بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عمامہ کے شملے اور عمامے کی مقدار


سوال

  1. ایک شملے  کے ساتھ دوسرا شملہ چھوڑنے کا کیا حکم ہے اور اس کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے؟

  2. پگڑی/عمامہ کتنے گز کا ہونا چاہیے؟ کیا سفر اور حضر میں اس کی مقدار میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

  3. موجودہ زمانے میں میٹر اور گز کے حساب سے بتائیں کہ عمامہ کتنے گز یا میٹر کا ہونا چاہیے؟

جواب

1=عمامہ کا ایک  شملہ  چھوڑنا بھی ثابت ہے اور دو شملے  بھی، لہٰذا دونوں طریقے درست ہیں۔ شملے کی کم سے کم مقدار چار انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک شرعی گز (ڈیڑھ فٹ) ہے۔

2-3=عمامہ کی سنت مقدار سات ہاتھ ہے، اور بعض اوقات رسول اللہ ﷺ سے بارہ ہاتھ کا عمامہ بھی ثابت ہے ۔ سات ہاتھ یا گز شرعی میٹر کے حساب سے تقریباً 3.20 میٹر اور آج کل کے گز کے حساب سے ساڑھے تین گز بنتا ہے، اور بارہ ہاتھ یا گز شرعی میٹر کے حساب سے تقریباً 5.49 میٹر اور آج کل کے گز کے حساب سے چھ گز بنتا ہے۔سفر و حضرکے اعتبار سے مقدار کا فرق منقول نہیں ۔

لمعات التنقیح فی شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"قوله: (سدل عمامته) أي: أرسل طرفها بين كتفيه، قد ثبت من فعله صلى الله عليه وسلم إرسال العذبة، و لكن لم يكن دائما بل كان يرسل تارة ولم يرسل أخرى، وتارة شدها تحت العنق، وتارة يغرز أحد طرفي العمامة فيها، ويرسل الطرف الآخر، وفي كل ذلك وردت أحاديث، وكانت عذبته صلى الله عليه وسلم غالبا خلف ظهره، وقد يرسلها على جانبه الأيمن، وكان يرسل في بعض الأحيان عذبتين بين الكتفين، وإرسال العذبة على الجانب الأيسر بدعة كذا قالوا، وأقله أربع أصابع وأكثرها ذراع، وتطويلها متجاوزا عن نصف الظهر بدعة، وإسبال محرم، فإن كان على وجه الخيلاء فهو محرم وإلا فمكروه مخالف للسنة، وقيل: تخصيص الإرسال بحالة الصلاة ليس بشيء ولا يوافق السنة، والصواب أن إرسال العذبة مستحب، ومن السنن الزوائد دون المؤكدة، وقال في (كنز الدقائق) : وندب لبس السواد وإرسال ذنب العمامة بين كتفيه وهكذا في غيره من كتب الحنفية، والله أعلم."

(کتاب اللباس، الفصل الثانی، ج:7، ص:351، ط:دار النوادر، دمشق)

جمع الوسائل فی شرح الشمائل میں ہے:

"كان له صلي الله عليه وسلم عمامة قصيرة وعمامة طويلة، وإن القصيرة كانت سبعة أذرع والطويلة كانت إثني عشرةذراعا ، إنتهى، وظاهر كلام المدخل أن عمامته كانت سبعة أذرع مطلقا من غير تقييد بالقصير والطويل، والله أعلم."

(باب ماجاء في عمامة رسول الله صلي الله عليه وسلم، ج:1، ص:207، ط:إدارة تاليفات اشرفيه ملتان)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100264

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں