
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک شخص کو گھوڑا سنبھالنے کے لئے دیا، وہ شخص گھوڑے کی لگام لے کے بھاگ گیا اور بازار میں فروخت کردیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو وہ شخص نہیں ہے اور لگام بھی غائب ہے، تو فرمایا کہ میں اس کو گھوڑا سنبھالنے پر پانچ درھم اجرت دینے والا تھا، لیکن وہ اس لگام کو بازار میں 5 درھم کا فروخت کردیا، رزق اتنا ہی ہے، مگر اس كا طریقہ حرام کا تھا۔
کیا ایسی کوئی روایت موجود ہے؟
سوا ل میں مذکور قصہ بغیر کسی حوالہ وسند کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خَچّر سے متعلق أبو القاسم محمود بن عمر الزمخشری (المتوفي: 538ھ) نے ’’ ربیع الأبرار ونصوص الأخبار‘‘ میں درج کیا ہے ، لیکن اس میں چور کےاُس لگام کو دو درہم میں بیچنے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کےبھی اسے حفاظت کے بدلے دو درہم ہی دینے کا تذکرہ ہے ، پانچ درہم کا تذکرہ نہیں ، أبو القاسم محمود بن عمر الزمخشری (المتوفي: 538ھ) کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
"دخل علي عليه السلام المسجد، وقال لرجل: أمسك على بغلتي. فخلع لجامها وذهب به. وخرج علي وفي يده درهمان ليكافئه فوجدها عطلاً، فركبها ومضى، فأعطى غلامه الدرهمين ليشتري بها لجاماً، فوجد الغلام اللجام في السوق وقد باعه السارق بدرهمين. فأخذه بالدرهمين. فقال علي: إن العبد ليحرم نفسه الرزق الحلال بترك الصبر، ولا يزداد على ما قدر له. "
(ربيع الأبرار ونصوص الأخبار، الباب الحادي والتسعون: اليأس والقناعة والرضا بما رزق الله، (5/ 336) برقم (65)، ط/ مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، بيروت، الطبعة الأولى 1412ه)
بعد ازاں اسی واقعہ کو صاحب ِ’’ المستطرف في كل فن مستظرف‘‘ أبو الفتح الأبشیہی (المتوفى: 852ھ) نے بھی بغیر کسی حوالہ وسندکےنقل کیاہے ، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
"ودخل علي بن أبي طالب ـ رضي الله عنه ـ المسجد، وقال لرجل كان واقفا على باب المسجد: أمسك عليّ بغلتي، فأخذ الرجل لجامها، ومضى وترك البغلة، فخرج علي وفي يده درهمان ليكافئ بها الرجل على إمساكه بغلته؛ فوجد البغلة واقفة بغير لجام، فركبها ومضى، ودفع لغلامه درهمين يشتري بهما لجاما، فوجد الغلام اللجام في السوق قد باعه السارق بدرهمين، فقال علي ـ رضي الله عنه: إن العبد ليحرم نفسه الرزق الحلال بترك الصبر، ولا يزداد على ما قدر له."
(المستطرف في كل فن مستظرف، (1/ 158)، ط/ دار الكتب العلمية - بيروت)
مذکورہ تفصیل سے واضح ہوا کہ یہ واقعہ كسي معتبر سند سے حضرت علي رضي الله عنه سے ثابت نهيں ہے، لہذا یہ واقعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرکے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144511101750
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن