بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

آفاقی شخص اگر کسی ضرورت سے حل (جیسے جدہ) آئے، پھر بغیر حج یا عمرہ کے ارادے سے مکہ مکرمہ جائے، تو احرام باندھنے کا کیا حکم ہے؟


سوال

میں ریاض میں مقیم ہوں اور جدہ کام کے سلسلے میں آتا جاتا رہتا ہوں، کام سے فارغ ہو کر اکثر مکہ مکرمہ، مسجدِ حرام چلا جاتا ہوں، عشاء کی نماز ادا کر کے طواف کرتا ہوں اور رات کو واپس جدہ اپنے ہوٹل آ جاتا ہوں، اگلے دن واپس ریاض اپنے گھر کو روانہ ہو جاتا ہوں۔میرا مسجدِ حرام آنے کا مقصد حج یا عمرہ ہرگز نہیں ہوتا، بلکہ بیت اللہ میں وقت گزاری، نماز، ذکر و دعاکرنا ہوتا ہے۔

میرے بھائی کا کہنا ہے کہ مجھ پر حرم کی حدود میں داخل ہوتے ہی عمرہ کرنا واجب ہو جاتا ہے، اور یہ لازم ہے کہ میں میقات سے احرام باندھ کر آؤں، بصورتِ دیگر مجھ پر دم  واجب ہو گا۔

جبکہ میرا خیال ہے کہ جب عمرہ کی نیت ہی نہیں، تو پھر بلا احرام صرف وقت گزارنے، نماز پڑھنے اور عام عبادات کے لیے مسجدِ حرام جانا جائز ہے، اور اس صورت میں کوئی دم واجب نہیں ہوتا۔

از راہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

میقات سے گزرنے والے شخص پر میقات سے پہلے احرام باندھنا اس وقت ضروری ہوتا ہے جب اس کا ارادہ حرم جانے کا ہو،البتہ اگر کوئی آفاقی شخص (یعنی جو میقات سے باہر رہتا ہو) کسی کام یا ضرورت کے باعث حل (یعنی میقات اور حرم کے درمیان کی جگہ) جانا چاہے، اور اس غرض سے میقات کے اندر سے گزرے، لیکن اس وقت اس کا ارادہ حرم جانے کا نہ ہو، تو اس پر احرام باندھنا ضروری نہیں۔

البتہ اگر وہ شخص بعد میں حل سے حج یا عمرہ کے ارادے سے حرم جانے کا ارادہ کرے، تو ایسی صورت میں اسے حرم میں داخل ہونے سے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے،بغیر احرام کے حرم میں داخل ہونا جائز نہیں، اور اگر وہ بغیر احرام کےداخل ہو جائے تو دم لازم ہو گا۔اور اگر وہ شخص بغیر حج یا عمرے کے ارادےسےحل سےحرم جاناچاہتا  ہو ،تو بلااحرام جانے میں حرج نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل جدہ (جو کہ حل میں واقع ہے) کام کے ارادے سے آئے تو میقات سے گزرتے وقت احرام باندھنا ضروری نہیں،اور اگر کام سے فارغ ہونے کے بعد،حج یا عمرہ کے ارادے کے بغیر مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کرے، تو مکہ جانے سے پہلے احرام باندھنا واجب نہیں ہے۔

الدر مع الرد میں ہے:

"أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام.

(قوله أما لو قصد موضعا من الحل إلخ) أي مما بين الميقات والحرم. والمعتبر القصد عند المجاوز لا عند الخروج من بيته كما سيأتي في الجنايات: أي قصدا أوليا كإذا قصده لبيع أو شراء، وأنه إذا فرغ منه يدخل مكة ثانيا إذ لو كان قصده الأولي دخول مكة، ومن ضرورته أن يمر في الحل فلا يحل له (قوله فله دخول مكة بلا إحرام) أي ما لم يرد نسكا كما يأتي قريبا."

(كتاب الحج، ج: 2، ص: 476، ط: سعيد)

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:

"أما لو قصد موضعا من الحل، كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام. فإذا حل به التحق بأهله فله دخول الحرم بلا إحرام. قالوا: وهو الحيلة لمريد ذلك بقصد أولى، كما إذا كان قصده لجدة مثلا لبيع أو شراء، وإذا فرغ منه يدخل مكة ثانيا، إذ لو كان قصده الأولي دخول مكة ومن ضرورته أن يمر بالحل فلا يحل له تجاوز الميقات بدون إحرام."

(حرف الحاء، حرم، ‌‌أولا: حرم مكة، ‌‌دخول الحرم المكي،ب -‌‌ الدخول لأغراض أخرى، ج: 17، ص: 187، ط: دار السلاسل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101756

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں