
اگر ماہواری کی عادت چھ دن ہو، اور پانچویں دن خون آنا بند ہو جائے تو روزہ رکھ سکتے ہیں؟
اور اگر پانچویں دن افطار بعد خون آ جائے تو وہ روزہ شمار ہوگا یا نہیں یا اعادہ کی ضرورت ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر عادت چھ دن ہو اور پانچویں دن صبحِ صادق کے بعد خون آنا مکمل طور پر بند ہوجائے (اگرچہ نصف النہار سے پہلے پہلے ہی ہو) تو اس دن کے روزہ کی نیت کرنا درست نہیں ہے، البتہ اس دن کی قضاء لازم ہوگی۔
اور اگر عادت چھ دن کی تھی، پانچویں دن صبحِ صادق سے پہلے خون آنا بند ہوگیا، اور خاتون نے روزہ رکھ لیا، لیکن افطاری کے بعد دوبارہ خون آگیا، تو یہ روزہ درست نہیں ہوا؛ کیوں کہ عادت کے دنوں میں خون کا واپس آ جانا اس بات کی علامت ہے کہ ابھی ماہواری جاری ہے، اور ماہواری کے ایام میں روزہ رکھنا درست نہیں ہوتا، البتہ اس ایک دن کی قضاء لازم ہوگی۔
الفتاوي الهنديةمیں ہے:
"لو انقطع دمها دون عادتها يكره قربانها وإن اغتسلت حتى تمضي عادتها وعليها أن تصلي وتصوم للاحتياط. هكذا في التبيين."
(کتاب الطهارة، الباب السادس، الفصل الرابع، ١/ ٣٩، ط: رشيدية)
البحر الرائقمیں ہے:
"(قوله ولو قدم مسافر أو طهرت حائض أو تسحر يظنه ليلا والفجر طالع أو أفطر كذلك والشمس حية أمسك يومه وقضى ولم يكفر كأكله عمدا بعد أكله ناسيا ونائمة ومجنونة وطئتا) لما قدمنا أن كل من صار أهلا للزوم ولم يكن كذلك في أول اليوم فإنه يجب عليه الإمساك؛ لأنه وجب قضاء لحق الوقت؛ لأنه وقت معظم وإنما وجب القضاء على المسافر والحائض لما تقدم أن أصل الوجوب ثابت عليهما وإنما المتأخر وجوب الأداء."
(كتاب الصوم، فصل في عوارض الفطر، ٢/ ٣١٣، ط: دار الكتاب الإسلامي)
رد المحتار على الدر المختارمیں ہے:
"(كمسافر أقام وحائض ونفساء طهرتا ومجنون أفاق ومريض صح) ومفطر ولو مكرها أو خطأ (وصبي بلغ وكافر أسلم وكلهم يقضون) ما فاتهم (إلا الأخيرين) وإن أفطرا لعدم أهليتها في الجزء الأول من اليوم.
(قوله: طهرتا) أي بعد الفجر أو معه فتح . . . (قوله: لعدم أهليتهما) أي لأصل الوجوب بخلاف الحائض فإنها أهل له وإنما سقط عنها وجوب الأداء فلذا وجب عليها القضاء."
(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما يكره فيها، ٢/ ٤۰٨، ط: سعید)
فتح القديرمیں ہے:
"وصحة الصلاة التي صلتها صاحبة العادة فيما إذا انقطع دمها دون العادة فاغتسلت وصلت على عدم العود، فإن عاد ففاسدة وإلا صحيحة."
(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ١/ ٤٩٧، ط: دار الفكر)
فقط والله تعالى أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101362
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن