
اگر کسی شخص نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو سے گھر جاتے ہوئے یہ کہا: "اب مت آنا"، پھر بعد میں اسے شک ہوا کہ کہیں طلاق تو واقع نہیں ہوگئی، اور جب نیت کے بارے میں غور کیا تو وہ شک میں پڑ گیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ اس وقت میری کیا نیت تھی۔ وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہا، شک ہی میں مبتلا ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ شاید طلاق کی نیت نہیں تھی، اور کبھی خیال آتا ہے کہ نیت موجود تھی۔ بار بار غور کرنے کے باوجود بھی وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا اور یہی شکوک و وساوس اسے پریشان کر رہے ہیں۔
صورت مسئولہ میں " اب مت آنا "الفاظ طلاق میں سے نہیں ہے، لہذا ان الفاط سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
فتاوی شامی ہے:
"وألفاظه: صريح، وملحق به وكناية:
(قوله صريح) هو ما لا يستعمل إلا في حل عقدة النكاح سواء كان الواقع به رجعيا أو بائنا كما سيأتي بيانه في الباب الآتي (قوله وملحق به) أي من حيث عدم احتياجه إلى النية كلفظ التحريم أو من حيث وقوع الرجعي به وإن احتاج إلى نية: كاعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة أفاده الرحمتي (قوله وكناية) هي ما لم يوضع للطلاق واحتمله وغيره كما سيأتي في بابه."
(ج:3،ص:230، ط:ایچ ایم سعید)
فقط واللہ أعلم.
فتویٰ نمبر : 144710100130
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن