
ہمارے یہاں ہوٹل میں ایک یا دو آدمی (باہر والے) ہوتے ہیں، جو لوگوں کے لئے باہر چائے لے کر جاتے ہیں، ان کو 100 روپے پر 20 روپے ملتے ہیں ،جو بطور کمیشن ہوتے ہیں، اس کمیشن کے علاوہ ان سے کوئی اجرت طے نہیں ہوتی ،وہ ہوٹل والے کے باقاعدہ ملازم نہیں ہوتے،کیا اس طرح طے کرکے کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں؟ وجہ شبہ یہ ہے کہ یہ اجارہ ہے، اور اجارے میں اجرت اور مدت کی تعیین ضروری ہے، جب کہ یہاں اجرت مبہم ہے ۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ہوٹل کرائے پر لیتے ہیں، پھر اسی ہوٹل میں اضافی کام کرکےاور اس پر محنت کرکے آگے دوسرے شخص کو زیادہ کرائے پر دیتے ہیں، یہ درست ہے کہ نہیں ؟
تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ دو آدمی مل کر ہوٹل کرائے پر لیتے ہیں ،پھر اس کے لیے سامان وغیرہ لاتے ہیں، اور ہوٹل میں تھوڑا بہت کام کرتے ہیں، اس کی مرمت وغیرہ کرتے ہیں پھر اس میں سے ایک یا دونوں آدمی اپنے حصے کروڑ روپے لے کر بیچتے ہیں ،جب کہ اس میں سامان وغیرہ زیادہ سے زیادہ 30سے 35 لاکھ کا بنتا ہے ،زیادہ قیمت پر اس لیے فروخت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس ہوٹل کو ہم نے مشہور کیا اور ہم نے اس میں بہت محنت کی ازروئے شرع اس کا کیا حکم ہے؟
1- واضح رہے کہ کمیشن کے استحقاق کے لیے درج ذیل تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:
لہذامذکورہ صورت میں چائے والے کے پاس (باہر والے ) کا اس طرح کمیشن طے کرکے کام کرنا جائز ہے، فقہاء نے تعامل اور ضرورت کی بناء پر اس معاملے کو جائز قرار دیا ہے۔
2- کرایہ کی دکان جتنے کرائے پر لی جائے اتنے ہی کرائے پر کسی اور کو دینا جائز ہے، تاہم دو صورتوں میں پہلے کرائے سے زائد کرائے پر دکان دی جاسکتی ہے:
(الف) دوسرا کرایہ پہلے کی جنس میں سے نہ ہو، یعنی پہلے کرایہ روپے میں ہو تو یہ آگے پیسے کے بجائے کوئی اور چیز کرایہ مقرر کرے ۔
(ب) کرایہ دار نے اس کرایہ کی دکان میں کچھ اضافی کام (مثلاً رنگ، ٹائلز، یا اس میں کوئی اضافہ یادیگر تعمیراتی کام) کرایا ہو، تو ایسی صورت میں وہ پہلے کرایہ سے زیادہ پر بھی دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے۔
چونکہ سوال میں مذکورہ صورت دوسری صورت کے حکم میں آتی ہے؛لہذا اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہوگا۔
3-صرف ہوٹل کی گوڈ ول یا فیس ویلیو کی بناء پر ہوٹل کا سودا اس طرح کرنا کہ اس ہوٹل کا ٹھیہ سامان کے بغیر انفرادی حیثیت میں بیچا جائے یہ جائز نہیں، اس لیے کہ یہ حق مجرد ہے،البتہ ہوٹل کے ٹھیے کی قیمت طے کرکے بمع سازوسامان کے فروخت کرنا جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
"مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."
(كتاب الإجارة،ج:6،ص:63،سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
( وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها ) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد ؛ لأنه غير مفيد ، بخلاف ما يختلف به كما سيجيء، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين : إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا.
(قوله بخلاف الجنس) أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة.(قوله أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط."
(کتاب الإجارة، باب مایجوز من الإجارة وما یکون خلافاً فيها، ج:9، ص:48، ط:رشیدیه)
الاشباہ والنظائر میں ہے :
"الحقوق المجردة لايجوز الاعتياض عنها."
(کتاب البیوع،العقد الفاسد إذا تعلق به حق العبد،ص:178،ط:رشیدیه)
امدادالاحکام میں ہے:
’’محض اس قانون کے مشہور ہونے سے قرض خواہوں کا حق عنداللہ ساقط نہ ہوگا اور حقوقِ گڈول کی تنہا قیمت کچھ نہیں۔ ہاں یہ درست ہے کہ حقوقِ گڈول کی وجہ سے مجموعی دکان کی قیمت زیادہ شمار کی جائے، مگر چوں کہ تنہا یہ حقوق شرعاً قیمتی نہیں؛ اس لیے یہ جائز نہیں کہ ایک شریک کو صرف حقوقِ گڈول کی وجہ سے ایک لاکھ کا شریک مانا جائے، بلکہ اس کی طرف تھوڑا بہت مال بھی ہو جس کی قیمت حقوقِ گڈول کی وجہ سے زیادہ شمار کی جائے۔‘‘
(4 /452، مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100218
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن