بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

عددی چیزیں قرض یا ادھارپر لینے کا حکم


سوال

کیا عددی اشیاء میں سود ہے؟ مثلا بارہ انڈوں کو آٹھ انڈوں کے عوض قرض یا ادھار لے سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ عددی اشیاء (مثلا انڈے کیلے کینو وغیرہ) کو ہم جنس اشیاء کے عوض فروخت کرنے کی صورت میں دونوں جانب برابری اگرچہ ضروری نہیں،تاہم ایک ہی مجلس میں عوضین  پر قبضہ کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے، ہم جنس عددی اشیاء کی ادھار خرید و فروخت جائز نہیں ہوتی۔

قرض کے حوالے سے شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جو چیز قرض لی گئی ہو، ایسی ہی چیز قرض کی مقدار کے بقدرر واپسی کرنا  ضروری ہوتا ہے، قرض کی مقدار سے کم واپس کرنے کی شرط لگانا جائز نہیں ہوتا، صورت مسئولہ میں 12 انڈے آٹھ انڈوں کے  عوض قرض لینایا12 انڈے 12 انڈوں کے عوض ادھار خرید نا جائز نہیں ہوگا، البتہ 12 انڈے قر ض لے کر 12 انڈے واپس کرنایا 12 انڈوں کو  نقدی کے عوض ادھار خریدنا جائز ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌ويجوز ‌بيع ‌المذروعات، ‌والمعدودات ‌المتفاوتة، واحدا باثنين يدا بيد كبيع ثوب بثوبين، وعبد بعبدين، وشاة بشاتين، ونصل بنصلين، ونحو ذلك بالإجماع، أما عندنا فلانعدام أحد الوصفين، وهو الكيل، والوزن، وعنده لانعدام الطعم، والثمنية."

 (کتاب البیوع، بیان رکن البیع، فصل فی شرائط الصحة فی البیوع،ج:5، ص: 185، ط:دارالکتب  العلمیة)

وفیہ ایضا:

"ومنها أن يكون مما له مثل كالمكيلات، والموزونات، والعدديات المتقاربة، فلا يجوز قرض ما لا مثل له من المذروعات، والمعدودات المتقاربة؛ لأنه لا سبيل إلى إيجاب رد العين ولا إلى إيجاب رد القيمة؛ لأنه يؤدي إلى المنازعة لاختلاف القيمة باختلاف تقويم المقومين؛ فتعين أن يكون الواجب فيه رد المثل؛ فيختص جوازه بما له مثل."

 (کتاب القرض،فصل فی شرائط رکن القرض، ج:7، ص:394، ط:دارالکتب  العلمیة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

'' فصل في القرض: (هو) لغةً: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعاً: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه، وهو أخصر من قوله: (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه، (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس، (مثلي) خرج القيمي، (لآخر ليرد مثله) خرج نحو: وديعة وهبة.(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك ... (فيصح استقراض الدراهم والدنانير وكذا) كل (ما يكال أو يوزن أو يعد متقارباً فصح استقراض جوز وبيض) وكاغد عدداً (ولحم) وزناً وخبز وزناً وعدداً كما سيجيء ... (قوله: في مثلي) كالمكيل والموزون والمعدود المتقارب كالجوز والبيض'."

  (کتاب البیوع، باب المرابحة و التولیة، فصل فی القرض، ج:5، ص:161-164-167، ط:سعید)

درر الحکام میں ہے:

"يصح القرض في المثليات كالمكيل والموزون والعدد والمتقارب، فلذلك يصح إقراض المكيلات كالشعير والحنطة والموزونات كالدقيق والدراهم والدنانير والتبن والثوب والعدديات المتقاربة كالجوز والبيض والورق. وعليه فيجوز استقراض الدراهم والدنانير واللحم وزنا والورق عددا والخبز وزنا وعددا والجوز عددا أو كيلا (الهندية في الباب التاسع من البيوع ورد المحتار) ولا يجوز القرض في الأموال الغير المثلية أي يكون فاسدا كالحيوان والثياب والعقار والعدديات المتفاوتة والأموال التي تقرض بقرض فاسد على هذا الوجه يجب ردها للمقرض إذا كانت لم تزل موجودة في يد المستقرض.... إذ لا يتصور أداء وقضاء الدين حقيقة؛ لأن القضاء يصادف العين مع أن الدين وصف ثابت في الذمة فلذلك يقال:الديون تقضى بأمثالها."

(کتاب العاشر الشرکات،خاتمہ فی حق بیان اھکام القرض،ج:3،ص:86، ط:دار الجیل)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال  : دھان کے بدلے دھان لینا یا دینا بطور قرض کیسا ہے؟

اگر دھان بطور قرض لئے پھر اس قدر دھان واپس کر دیئے، کمی زیادتی نہیں کی تو یہ شرعاً درست  ہے ۔"

(کتاب الربو،باب القرض،ج:16، ص:432، ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100613

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں