بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف کئے ہوئے زیورات کومسجد میں خرچ کرنے سے پہلے ذاتی کاروبار میں لگانا


سوال

ایک عورت نے اپنے شوہر  کو اپنے کچھ زیورات  دے کر  کہا   کہ میں نے یہ زیورات محلے کی مسجد کے لیےوقف کیے ہیں ،اس مسجد کے لیے زمین خریدی جاچکی ہے،البتہ اس  زمین پر مسجد کی تعمیر ایک سال بعد شروع  ہوگی۔

کیا ایک سال تک مذکورہ عورت ان زیورات کو  بیچ کر اس کی رقم کسی کاروبار میں لگاسکتی ہے،جب تک زیور بیچ کر مسجد میں رقم لگانے کا موقع نہیں آجاتا؟  

جواب

واضح رہے کہ  غیر منقولی اشیاء (جائیداد )کی طرح ان  منقولی اشیاء کا وقف کرنا، جن کا وقف کرنا اہل علاقہ کا تعامل ہو جائز ہے؛لہذا صورت   مسئولہ میں مذکورہ عورت کا اپنے شوہر سے یہ کہنے سے : "کہ میں نے یہ زیورات محلے کی مسجد کے لیے وقف کیے ہیں" ،اس سے یہ زیورات مسجد کے لیے  وقف ہوگئے، اب یہ زیورات مسجد انتظامیہ کےحوالے کرنے کے بعد انتظامیہ کے پاس امانت ہیں،اور اگر حوالے نہیں کیےتو  واقف(مذکورہ عورت) کے پاس امانت ہیں، اس لیے  مذکورہ عورت کو   وقف شدہ زیور کو  خود استعمال کرنا یا اس کی رقم کو کاروبار میں لگانا جائز نہ ہوگا،  جب بھی مسجد کی تعمیر کی  کی ابتداء ہوگی ان زیورات کی رقم کو مسجد کی تعمیر میں خرچ کیا جائے  گا۔

الدر  مع الرد میں ہے:

(و) كما صح أيضا وقف كل (منقول) قصدا (فيه تعامل) للناس (كفأس وقدوم) بل (ودراهم ودنانير) .

(کتاب الوقف،مطلب فی وقف المشاع المقضی بہ،ج:4،ص: 363، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: كل منقول قصدا) إما تبعا للعقار فهو جائز بلا خلاف عندهما كما مر لا خلاف في صحة وقف السلاح والكراع أي الخيل للآثار المشهورة والخلاف فيما سوى ذلك فعند أبي يوسف لا يجوز وعند محمد يجوز ما فيه تعامل من المنقولات واختاره أكثر فقهاء الأمصار كما في الهداية وهو الصحيح كما في الإسعاف، وهو قول أكثر المشايخ كما في الظهيرية؛ لأن القياس قد يترك بالتعامل ونقل في المجتبى عن السير جواز وقف المنقول مطلقا عند محمد وإذا جرى فيه التعامل عند أبي يوسف وتمامه في البحر والمشهور الأول"

(کتاب الوقف،مطلب في وقف المنقول قصدا،ج:4، ص:363،ط:سعید)

وفیہ ایضا:

مطلب في وقف الدراهم والدنانير (قوله: بل ودراهم ودنانير) عزاه في الخلاصة إلى الأنصاري وكان من أصحاب زفر، وعزاه في الخانية إلى زفر حيث قال: وعن زفر شرنبلالية وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ. ما في المنح قال الرملي: لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف، وإفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر وأفتى به وما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها وسمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف اهـ ملخصا.

(کتاب الوقف،مطلب في وقف الدراهم والدنانير،ج:4،ص:363، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101347

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں