بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سات تولہ سونا پر زکوۃ


سوال

میری بیوی کے پاس 7 تولہ سونا ہے۔ اس پر ایک سال گزر چکا ہے اور وہ اس کے استعمال میں ہے۔ کیا اس پر زکوٰۃ اور قربانی واجب ہے؟
 
 

جواب

اگر آپ کی بیوی کے پاس 7 تولہ سونا ہے اور اس پر ایک سال گزر چکا ہے تو صرف سونے کی بنیاد پر زکوٰۃ فرض نہیں، کیونکہ سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے۔ البتہ اگر اس کے ساتھ چاندی، نقد رقم یا مال تجارت یہ سب یا بعض ہویہ ملا کر چاندی کا نصاب  مکمل ہو جائے توسال گزرنے پر  زکوٰۃ واجب ہوگی۔واضح رہے کہ   استعمال کے زیورات پر بھی نصاب پورا ہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔
باقی قربانی کے وجوب سے متعلق  حکم یہ ہے کہ جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان  مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، ذمہ میں  واجب الادا اخراجات منہا کرنے کے بعد ضرورت سےزائد اگر اتنا سامان  موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو (خواہ ضرورت سے زائد مال نقدی ہو یا سونا چاندی ہو یا کسی اور شکل میں ہو) تو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔ اور ایسے شخص کے لیے زکات لینا بھی جائز نہیں ہے۔ اور اس مال پر سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:

"فأما إذا كان له الصنفان جميعاً فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا ... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة؛ و لأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية، فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد؛ ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال.
و أما عند الاختلاف فيختلف الواجب وإذا اتحد المالان معنىً فلا يعتبر اختلاف الصورة كعروض التجارة، ولهذا يكمل نصاب كل واحد منهما بعروض التجارة ولا يعتبر اختلاف الصورة، كما إذا كان له أقل من عشرين مثقالاً وأقل من مائتي درهم وله عروض للتجارة ونقد البلد في الدراهم والدنانير سواء فإن شاء كمل به نصاب الذهب وإن شاء كمل به نصاب الفضة، وصار كالسود مع البيض، بخلاف السوائم؛ لأن الحكم هناك متعلق بالصورة والمعنى وهما مختلفان صورة ومعنى فتعذر تكميل نصاب أحدهما بالآخر." 

 (کتاب الزکوۃ،2/ 19 سعید )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708102321

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں