بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

اگر بچہ مردہ پیدا ہو جائے تو اس کے احکامات کیا ہیں؟


سوال

اگر بچہ مردہ  پیدا ہو جائے تو  اس کے احکامات کیا ہیں؟

جواب

اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو اسے مسنون کفن دینے اور اس کی نماز جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اسے غسل دینے کے بعد کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردینا چاہیے، یہی اس کا کفن ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 228):

"(وإلا) يستهل (غسل وسمي) عند الثاني، وهو الأصح، فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراماً لبني آدم، كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر، هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم يصل عليه)". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144108201250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں