بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تین طلاق کا حکم


سوال

میری بھانجی کو اس کے شوہر نے ایک سال پہلے ایک طلاق دی تھی،طلاق کے الفاظ یہ تھے:میں تمہیں طلاق دیتاہوں،اس کے بعد رجوع ہوا۔

اب دوبارہ میری بھانجی کو شوہر نے دو طلاق دےدی  ،اس وقت میری بھانجی کا بھائی موجود تھا،بھانجی کے شوہر نے اس کے بھائی کو دو مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ:میں آپ کی بہن کو طلاق دیتاہوں۔

سوال یہ ہے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں؟اب بھانجی شوہر کےساتھ رہ سکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً صحیح ہے کہ بھانجی کے شوہر نے بیوی کو ایک سال پہلے ایک مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے کہ:میں تمہیں طلاق دیتاہوں،تو ان الفاظ سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،جس کے بعد عدت میں رجوع کرنے پر نکاح برقرار رہا تھا اور شوہر کے پاس آئندہ صرف دوطلاقوں کا اختیار باقی تھا۔

دوسری مرتبہ شوہر نے بیوی کے بھائی سے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے ہیں کہ:میں آپ کی بہن کو طلاق دیتاہوں،تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر باقی دو طلاقیں بھی واقع ہوگئیں ہیں،مطلقہ بیوی اپنے شوہر  پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، نکاح ختم ہوگیا ہے، اب شوہرکے لیے مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا، یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے،  مذکورہ خاتون  اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری  آتی ہو،  اگر ماہواری نہ آتی ہو،  تو تین ماہ،  اور اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

"{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ... فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}."

[البقرة: 229، 230]

فتاوى ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا."

(کتاب الطلاق، باب الرجعة،1 /473، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100834

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں