
میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے،میرے والد کا مکان تھا،اس کی قیمت 18000000 روپے ہے تقریبا۔والد صاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ ،تین بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں،پھر والدہ کا انتقال ہوا،ان کے ورثاء میں تین بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔شرعی حساب سے تقسیم بتادیں!
صورت مسئولہ میں سائل کے مرحوم والدین کے ترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومین کے حقوقِ متقدمہ تجہیز و تکفین کے اخراجات (اگر اب تک ادا نہ کیے گئے ہوں، یا کسی نے بطور قرض ادا کیے ہوں، کو)نکالنے کے بعد، اگر مرحومین کے ذمہ کوئی قرض ہو، تو بقیہ ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اگرمرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہوتوباقی ترکہ کے ایک تہائی حصہ میں نافذکرکے باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 12 حصو ں میں تقسیم کرکے مرحوم کے ہر بیٹے کو دوحصے اور ہر بیٹی کو ایک حصے ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت :12
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی 18000000 روپے میں سے ہر بیٹے کو 3000000 روپے اور ہر بیٹی کو 1500000 روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100978
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن