بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 محرم 1448ھ 15 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تین بیٹے اور چھ بیٹیوں میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے،میرے والد کا مکان تھا،اس کی قیمت 18000000 روپے ہے تقریبا۔والد صاحب کے انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ ،تین بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں،پھر والدہ کا انتقال ہوا،ان کے ورثاء میں تین بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔شرعی حساب سے تقسیم بتادیں!

جواب

صورت مسئولہ میں سائل کے مرحوم والدین  کے ترکہ کی تقسیم کاشرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحومین کے حقوقِ متقدمہ  تجہیز و تکفین کے اخراجات (اگر اب تک ادا نہ کیے گئے ہوں، یا کسی نے بطور قرض ادا کیے ہوں، کو)نکالنے کے بعد، اگر مرحومین کے ذمہ کوئی قرض ہو، تو بقیہ ترکہ سے  اس کی ادائیگی کے بعد، اگرمرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہوتوباقی ترکہ کے  ایک تہائی حصہ میں نافذکرکے باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 12  حصو ں میں تقسیم کرکے مرحوم کے ہر بیٹے کو دوحصے اور ہر بیٹی کو ایک  حصے ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت :12

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
222111111

یعنی 18000000 روپے میں سے ہر بیٹے کو 3000000  روپے اور ہر بیٹی کو  1500000 روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100978

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں