بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الاول 1443ھ 24 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

۲۷ رجب شب معراج میں عبادت کا حکم


سوال

۲۷ رجب کو کسی عبادت کا حکم ہے؟ اور ہے تو پھر آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب بدعات ہیں؟  کیا یہ حقیقت ہے؟  اس کے متعلق تفصیل سے بتادیجیے!

جواب

ستائیس رجب کی شب کے بارے میں عوام میں یہ مشہور ہوگیا ہے کہ یہ شبِ معراج ہے ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۲۷ رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے؛  کیوں کہ اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب کا اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہاجاسکتا کہ کون سی رات صحیح معنی میں معراج کی رات تھی ، جس میں آں حضرت ﷺ معراج پر تشریف لے گئے ،اس سے آپ خود اندازہ کرلیں کہ اگر شبِ معراج بھی کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، لیکن چوں کہ شبِ معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے ۲۷ رجب کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں۔
پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ معراج ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں پیش  آیا ، اس واقعہ کے بعد تقریباً 12 سال تک آپ ﷺ دنیا میں تشریف فرمارہے ،لیکن اس دوران یہ کہیں ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے شبِ معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میں یہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شبِ قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے، نہ توآپ ﷺ کا ایسا کوئی ارشاد ثابت ہے، اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے، نہ خود حضور ﷺ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی، اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔
پھر سرکار دو عالم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا میں موجود رہے ،اس پوری صدی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ۲۷ رجب کو خاص اہتمام کرکے نہیں منایا ، لہذا جو چیز حضورِ اقدس ﷺ نے نہیں کی، اور جوآپ کے صحابہ کرام نے نہیں کی ، اس کو دین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قرار دینا ، یا اس کے ساتھ سنت جیسا معاملہ کرنا بدعت ہے اوراس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143508200002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں