بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم


سوال

میری پھوپھی کا انتقال ہوا ، ان کے ورثا میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، شوہر کا انتقال پہلے ہو گیا ہے ، ان کے ترکہ  میں 55 لاکھ روپے ہیں۔

پوچھنا یہ ہے کہ ہر ایک  وارث  کو کتنا حصہ ملے گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم  کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ  کی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگرمرحومہ پرکوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومہ  نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے نافذ کرنے کے بعد مرحومہ  کی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 6 حصوں میں تقسیم کرکے اس کے ہر ایک بیٹے کو 2 حصے اور اس کی ہر ایک بیٹی کو  ایک حصہ ملے گا ۔

 صورت تقسیم یہ ہے:

مرحومہ پھوپھی:6

بیٹابیٹابیٹیبیٹی
2211

یعنی کل ترکہ پچپن لاکھ روپے ہو تو     مرحومہ   1,833,333.33روپے ہر ایک بیٹے کو ، اور 916,666.66  روپےہر ایک بیٹی کو    ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101362

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں