
ہماری چچی کا انتقال ہو گیا ہے ،ان کے ورثاء میں شوہر، ایک بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں، مرحومہ کی کوئی اولاد نہیں ہے اور ان کے والدین کا انتقال بھی ان سے پہلے ہو چکا تھا، چچی مرحومہ کے ترکہ میں دو پلاٹ ہیں چچی کے انتقال کے بعد ہمارے چچا یعنی چچی کے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا ،ان کے ورثاء میں صرف دو بھائی ہیں،والدین کا انتقال پہلے ہو چکا تھا ،اب چچی مرحومہ کے ترکہ میں جو دو پلاٹ ہیں، ان کی تقسیم کیسے ہو گی؟
صورت مسئولہ میں مرحومہ چچی کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرضہ ہو تو مرحومہ کے ترکہ میں اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی مال میں سے اس وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے اس میں سے چچی کے بھائی کو دو حصے،ہر ایک بہن کو ایک ایک حصہ،مرحوم ،چچا کے ہر ایک بھائی کو دو دو حصے ملیں گے ۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت(چچی):8/2
| شوہر | بھائی | بہن | بہن |
| 1 | 1 | ||
| 4 | 2 | 1 | 1 |
| فوت شدہ | |||
میت(مرحوم چچا):2 مض :1 مف:4 مض:2
| بھائی | بھائی |
| 1 | 1 |
| 2 | 2 |
یعنی فی صد کے اعتبار سے 25 فی صد مرحومہ کے بھائی کو،12.5 مرحومہ کی ہر ایک بہن کو ،25 فی صد مرحوم چچا کے ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100755
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن