
میرے پاس دو ماہ قبل ڈھائی لاکھ روپے نقد موجود تھے، میں نے اس سے سونا خرید لیا ہے، اب میں نے اس کی زکوٰۃ کس تاریخ کو دینی ہے؟
واضح رہے کہ زکات کے وجوب کے لیے ہر مال پر علیحدہ سال گزرنا شرط نہیں، لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل پہلے سے صاحب نصاب ہیں، تو اپنی زکات کی تاریخ والے دن ہی دیگر اموال کے ساتھ اس سونے کی بھی زکات ادا کرنا ضروری ہوگا۔
اور اگر سائل پہلے سے صاحب نصاب نہیں ہے، تو اگر آپ کی ملکیت میں مذکورہ سونے کے ساتھ ضرورت اصلیہ سے زائد نقدی، یا سامان تجارت یا چاندی موجود ہو، جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد بنتی ہو، تو اس صورت میں سائل صاحب نصاب شمار ہوگا، پس جس تاریخ کو سائل صاحب نصاب بنا ہو، اگلے سال اسی قمری تاریخ کو کل اموال زکات کا ڈھائی فیصد بطور زکوٰة ادا کرنا سائل پر لازم ہوگا، البتہ اگر مذکورہ سونے کی قیمت دیگر اموال کے ساتھ مل کر بھی نصاب تک نہیں پہنچتی ہو، تو اس صورت میں سائل پر زکات کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."
(كتاب الزكاة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض وفيه فصلان،الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة، 178/1، ط : رشیدیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال؛ لما روي في حديث عمرو بن حزم "والذهب ما لم يبلغ قيمته مائتي درهم فلا صدقة فيه فإذا بلغ قيمته مائتي درهم ففيه ربع العشر" وكان الدينار على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - مقوما بعشرة دراهم.
وروي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال لعلي: «ليس عليك في الذهب زكاة ما لم يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال."
(كتاب الزكاة، فصل كان له ذهب مفرد، 2/ 18، الناشر: دار الكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالا من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه المستفاد من نمائه أولا وبأي وجه استفاد ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك، ولو كان من غير جنسه من كل وجه كالغنم مع الإبل فإنه لا يضم هكذا في الجوهرة النيرة. فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي. ثم إنما يضم المستفاد عندنا إلى أصل المال إذا كان الأصل نصابا فأما إذا كان أقل فإنه لا يضم إليه، وإن كان يتكامل به النصاب وينعقد الحول عليهما حال وجود النصاب كذا في البدائع."
(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، 1/ 175، ط: دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101246
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن