بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹی اور بھتیجے میں وراثت کی تقسیم


سوال

 اگر باپ مر جائے اور اس کی ایک حقیقی بیٹی  ہو اوربھائی وغیرہ نہ ہو اور بیٹی کا ایک بیٹا اور چھے بیٹیاں ہوں، 24 کنال میں  سے ہر ایک کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ اوراس صورت میں میت کے بھتیجے کو حصہ ملے گا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم  کےترکہ کی تقسیم کا شرعی  طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو  اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد (  اگر مرحوم کے انتقال کے وقت اس کے دیگر ورثاء (والدین،بیوہ،دیگر اولاد،بھائی بہن،وغیرہ)میں سے کوئی حیات نہیں تھا، ورثاء میں صرف اس  کی ایک بیٹی  اور بھتیجاحیات ہے تو) کل   ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کا آدھا حصہ بیٹی کو اور آدھا حصہ بھتیجے کوملے گا ،بیٹی کی اولاد کا اپنے مرحوم نانا کے ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں ہے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت2

بیٹیبھتیجا
11

فیصد کے تناسب سے بیٹی کو 50فیصد اور بھتیجے کو 50 فیصد حصہ ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101822

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں