
میں اکثر دیر سے مسجد پہنچتا ہوں تو جماعت ہو چکی ہوتی ہے اور ایک صاحب کے ساتھ دوبارہ جماعت کر لیتا ہوں۔ کبھی میں امام کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا، کبھی بالکل پیچھے۔ اب ایک صاحب نے کہا کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ صحیح طریقہ کیا ہے؟
اس طرح نماز مکروہ ہے۔امام کے دائیں جانب کھڑا ہونا چاہیے۔باقی مسجد کی حدود کے اندر دوسری جماعت مکروہ تحریمی ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"على المذهب، ولا عبرة بالرأس بل بالقدم، فلو صغيراً فالأصح ما لم يتقدم أكثر قدم المؤتم لا تفسد، فلو وقف عن يساره كره (اتفاقاً وكذا) يكره (خلفه على الأصح) لمخالفة السنة، (والزائد) يقف (خلفه).
(وفي الرد): ويأمره الإمام بذلك: أي بالوقوف عن يمينه، ولو بعد الشروع أشار إليه بيده؛ لحديث ابن عباس أنه قام عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم فأقامه عن يمينه، سراج. (قوله بل بالقدم) فلو حاذاه بالقدم ووقع سجوده مقدماً..."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:567، ط: الحلبي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100220
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن