بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1448ھ 20 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرورش کے لیے دیے گئے جانور کے بچوں اور نفع میں شرکت کے مروجہ طریقے اور ان کا شرعی حکم


سوال

ہمارے ہاں دیہات میں لوگ جانور پالنے کے لیے دوسروں کو دیتے ہیں جس کی مختلف صورتیں ہیں۔

ہمارے ہاں زیادہ تر مندرجہ ذیل تین صورتیں پائی جاتی ہیں:

1۔ زید ایک چھوٹی بکری خرید کر عمرو کو دیتا ہے کہ اس کو پالو، اس کے بچے جب ہوں گے وہ بھی ہمارے درمیان نصف نصف ہوں گے اور یہ بکری بھی نصف نصف ہوگی، پھر اس پر گھاس وغیرہ کا خرچہ عمرو ہی کرتا ہے۔

2۔ زید ایک بڑی بکری لے کر عمرو کو دیتا ہے کہ یہ بکری میری ہوگی، البتہ جو اس کے بچے ہوں گے وہ ہمارے درمیان نصف نصف ہوں گے۔

3۔ زید ایک بڑا جانور بیل وغیرہ لے کر دیتا ہے کہ آپ اس کی خدمت کرو، اس کا خرچہ وغیرہ بھی زید ہی دیتا ہے، عمرو بس اس کو اپنے پاس رکھتا ہے اور چارہ وغیرہ ڈالتا ہے، خدمت کرتا ہے۔ طے یہ ہوتا ہے کہ جب ہم اس کو بیچیں گے تو جتنی قیمت کا میں نے خریدا ہے اصل قیمت وہ زید لے گا اور جو نفع ہوگا وہ زید اور عمرو کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ درج بالا صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے؟

اور یہ صورتیں، ان کا ابتلاءِ شدید اور ابتلاءِ عام ہے، تو کیا حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے جو گنجائش لکھی ہے، یہ صورتیں اس کے تحت آتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر جواز کی صورتیں کیا ہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ تینوں صورتوں میں زید اور عمرو کے درمیان ابتداءً ایسا معاہدہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔  مذکورہ جانور اور اس سے حاصل شدہ منافع (دودھ، بچے وغیرہ) اصل مالک (یعنی زید) ہی کے ہوں گے، اور عمرو کو اس کے پالنے کی اجرتِ مثل دی جائے گی، یعنی عام طور پر چارے وغیرہ کے علاوہ جانور پالنے اور اس کی دیکھ بھال کی جو مناسب اجرت بنتی ہے، پالنے والا اسی اجرت کا مستحق ہوگا۔

اس کے متبادل جواز کی ممکنہ صورتیں درج ذیل ہیں:

1-   ایک صورت یہ ہے  کہ کرایہ پر پالنے کے لیے دے دے، اور پالنے والے کی اجرت طے کرلے، اس صورت میں دودھ، بچے وغیرہ سب مالک کے ہوں گے۔

2- زید (مثلاً)  اپنے پیسوں سے جانور خریدے اور پھر عمرو (مثلًا) کے ہاتھ اس کا آدھا حصہ  آدھی قیمت پر بیچ دے ،پھر زید عمرو کو وہ پیسے معاف کردے،تو  دونوں کے درمیان  وہ جانور مشترک ہوجائے گا،  اس جانورسے  جو بچے   پیدا ہوجائے ، ہر ہر بچے میں زیداور عمرو برابر شریک ہوں گےاور اس طرح اس جانورکے دودھ میں بھی دونوں برابر شریک ہوں گے۔ اس صورت میں معاف کرنا بھی ضروری نہیں ہے، اگر دوسرے شریک کے پاس فی الوقت پیسے نہ ہوں، تو اس کے حصے کی رقم ادھار کرلی جائے، اور جیسے اس کی گنجائش ہو وہ ادا کرتا رہے۔

3-  زید اور عمرو   دونوں پیسے ملا کرجانور خریدیں، اس میں ہر ایک اپنی مالیت کے بقدر شریک ہوگا، اوراسی طرح  مالیت کے تناسب سے دونوں اس کے دودھ ، اور ہر ہر بچے میں بھی  شریک ہوں گے، البتہ اس صورت میں اس طرح طے کرنا کہ پہلا بچہ ایک کا ہوگا اور دوسرا بچہ دوسرے کا ہوگا یہ شرعاً غلط ہے،دونوں ہر ہر بچے میں اپنے اپنے حصے کے بقدر شریک ہوں گے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما."

(کتاب الاجارۃ ،الباب الخامس عشر فی بیان ما یجوز من الاجارۃ ومالا یجوز،ج:4،ص:445،دارالفکر)

خلاصۃ الفتاوی ہے:

" رجل دفع بقرة إلى رجل بالعلف مناصفة وهي التي تسمى بالفارسية كاونيم سوو بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان فهذا فاسد والحادث كله لصاحب البقرة والإجارة فاسدة."

(کتاب الإجارة،الجنس الثالث في الدواب۔۔ومایتصل بها،ج:3،ص:114،ط:قدیمی) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100165

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں