
معذور شخص کے لیے پیمپر پہن کر مسجد جانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ شرعاً "معذور " ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کو وضو توڑنے کے اسباب میں سے کوئی سبب (مثلاً ریح،خون ، قطرہ وغیرہ) مسلسل پیش آتا رہتا ہو اور کسی ایک نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت بھی نہ ملا ہو کہ وہ پاک ہو کر با وضو حالت میں وقتی فرض ادا کر سکے، اگر کسی نماز کا مکمل وقت اس طرح گزر گیا تو یہ شرعی معذور بن جائے گا، پھر جب تک کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ گزر جائے یہ شخص معذور سمجھا جائے گا پس صورت مسئولہ میں معذور شرعی کی تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے مذکوہ شخص اپنے بارے میں معذور ہونے نہ ہونے کا خود فیصلہ کرسکتاہے۔
اسی طرح جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ واجب کے قریب ہے ،احادیث میں اس کی بہت تاکید آئی ہے اور نہ پڑھنے پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہذا اگر کوئی شخص شرعی طور پر معذور ہو لیکن اس شخص کے لیے پیمپر پہن کر اس طور پر مسجد تک جانا ممکن ہو کہ مسجد کی تلویث کا اندیشہ نہ ہو اور نمازیوں کو تکلیف بھی نہ ہو ،تو مذکورہ شخص کے لئے مسجد جاکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔
البتہ اگر ناپاکی سے مسجد کی تلویث یا نمازیوں کو کسی قسم کی اذیت پہنچنے کا اندیشہ ہو تو مذکورہ شخص گھر میں نماز پڑھ لے۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن عكرمة، عن عائشة رضي الله عنها قالت:اعتكفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة من أزواجه مستحاضة، فكانت ترى الحمرة والصفرة، فربما وضعنا الطست تحتها وهي تصلي."
(كتاب الاعتكاف،باب الاعتكاف للمستحاضة،ج:2، ص:716، ط:دار ابن كثير)
عمد القاری میں ہے:
"ومما يستنبط منه جواز اعتكاف المستحاضة، وجواز صلاتها لأن حالها حال الطاهرات، وأنها تضع الطست لئلا يصيب ثوبها أو المسجد وأن دم الاستحاضة رقيق ليس كدم الحيض، ويلحق بالمستحاضة ما في معناها كمن به سلس البول والمذي والودي، ومن به جرح يسيل في جواز الاعتكاف...ومما يستنبط منه جواز الحدث في المسجد بشرط عدم التلويث."
(باب الاعتكاف للمستحاضة،ج:3،ص: 278، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمناً يتوضأ ويصلي فيه خالياً عن الحدث (ولو حكماً)؛ لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرةً (وفي) حق الزوال يشترط (استيعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقيقة)؛ لأنه الانقطاع الكامل. ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في -{لدلوك الشمس} (ثم يصلي) به (فيه فرضاً ونفلاً) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه. وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعيد أو ضحى لم يبطل إلا بخروج وقت الظهر.(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى، وكذا مريض لا يبسط ثوبه إلا تنجس فورا له تركه (و) المعذور (إنما تبقى طهارته في الوقت) بشرطين (إذا) توضأ لعذره و (لم يطرأ عليه حدث آخر، أما إذا) توضأ لحدث آخر وعذره منقطع ثم سال أو توضأ لعذره ثم (طرأ) عليه حدث آخر، بأن سال أحد منخريه أو جرحيه أو قرحتيه ولو من جدري ثم سال الآخر (فلا) تبقى طهارته."
(کتاب الطھارۃ، مطلب في احكام المعذور، ج:1،ص:305، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"شرط ثبوت العذر ابتداءً أن یستوعب استمراره وقت الصلاة کاملاً، وهو الأظهر، کالانقطاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کله ... المستحاضة ومن به سلس البول … یتوضؤن لوقت کل صلاة، ویصلون بذلک الوضوء في الوقت ماشاؤا من الفرائض و النوافل … ویبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق … إذا کان به جرح سائل وقد شد علیه خرقةً فأصابها الدم أکثر من قدر الدرهم، أو أصاب ثوبه إن کان بحال لوغسله یتنجس ثانیاً قبل الفراغ من الصلاة، جاز أن لا یغسله وصلی قبل أن یغسله وإلا فلا، هذا هو المختار."
(كتاب الطهارة، الباب السادس، ج:1، ص:41/40، ط: رشيديه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100067
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن