
زید کہ کہتا ہے کہ تعجب کے طور پر سبحان اللہ کہنے سے حدیث میں وارد سبحان اللہ کہنے کا ثواب نہیں ملتا ہے؛ کیوں کہ سبحان اللہ پر ثواب ذکر کی وجہ سے ملتا ہے اور تعجب میں ذکر کی نیت نہیں ہوتی ہے، تو کیا یہ درست ہے؟ اگر کوئی واقعی محض تعجب کی وجہ سے سبحان اللہ کہے تو کیا اسے ثواب ملے گا؟
صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص کسی تعجب خیز بات، قدرتِ الٰہی کے شاہکار یا عبرت کے موقع پر تسبیح (سبحان اللہ) پڑھے، تو اس پر بھی پورا اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے، لہذازید کا یہ دعویٰ کہ تعجب کے طور پر "سبحان اللہ" کہنے سے ثواب نہیں ملتا، شرعاً درست نہیں ہے۔
المحیط البرہانی میں ہے :
"سبح الله تعالى في السوق، فكان من نيته أن الناس يشتغلون بأمر الدنيا، وأنا أسبح الله تعالى في مثل هذا الموضع؛ كان أفضل من أن يسبح الله تعالى وحده في السوق، وإن سبح على وجه الاعتبار كان حسنا، ويؤجر على ذلك أيضا."
(كتاب الاستحسان والكراهية،الفصل الرابع في الصلاة، والتسبيح، وقراءة القرآن، والذكر، ج: 5 ، ص: 310 ، ط: دار الكتب العلمية، بيروت لبنان)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے :
"وإن سبح فيه للاعتبار والإنكار وليشتغلوا عما هم فيه من الفسق فحسن، وكذا من سبح في السوق بنية أن الناس غافلون مشتغلون بأمور الدنيا وهو مشتغل بالتسبيح وهو أفضل من تسبيحه وحده في غير السوق، كذا في الاختيار شرح المختار."
(كتاب الكراهية،الباب الرابع في الصلاة والتسبيح ورفع الصوت ،ج: 5 ،ص: 315، ط: رشيديه )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100027
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن