بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ اولاد کی پرورش کا حق


سوال

ایک عورت اپنے شوہر سے خلع لے لیتی ہے، یا کسی وجہ سے شوہر کی طرف سے طلاق ہوجاتی ہے، تو ایسی صورت میں ان کی اولاد کی پرورش اور حضانت کا حق کس کو حاصل ہوگا؟ آیا بچے اپنی والدہ کے پاس رہیں گے یا والد کے پاس؟

مذکورہ خاندان میں کل چھ بچے ہیں، جن میں دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں۔ بچوں کی عمریں درج ذیل ہیں:

ایک لڑکا: 23 سال

دوسرا لڑکا: 18 سال

ایک لڑکی: 20 سال

دوسری لڑکی: 15 سال

تیسری لڑکی: 12 سال

چوتھی لڑکی: 9 سال

مذکورہ صورت میں اگر میاں بیوی کے درمیان خلع ہوجائے یا طلاق واقع ہوجائے تو شرعاً مذکورہ بچوں میں سے کون سے بچے والدہ کے پاس رہیں گے اور کون سے والد کے پاس؟ نیز ہر بچے کی عمر کے اعتبار سے حضانت کا حق کس کو حاصل ہوگا؟

جواب

 میاں بیوی میں علیحدگی کے بعد بچوں کی پرورش کے حوالے سے حکم یہ ہے کہ  بیٹے کی عمر سات سال اور بیٹی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، البتہ اس دوران اگر والدہ    بچوں کے حق میں کسی اجنبی  شخص سے شادی کرلے  تو پھر اس کی پرورش کا حق ساقط  ہوکر  یہ حق   بچوں   کی  نانی کو حاصل ہوجاتا ہے،اور اگر  نانی نہ ہو تو  پھر ان کی پرورش کا حق اس کی دادی کو حاصل ہوتا ہے،اور اگر وہ بھی نہ ہو تو ان کی خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب   حق حاصل ہوتا ہے۔

بیٹے کی عمر سات سال اور بیٹی کی عمر نو سال ہونے کے بعد والد ان کو  اپنے پاس رکھنے کا حق دار ہوتا ہے۔

پھر  جو بیٹے   بالغ  اور سمجھ دار ہیں  وہ والد یا والدہ میں سے جس کے ساتھ رہنا  چاہیں رہ سکتے ہیں، اور بالغ لڑکیوں کی پرورش کا حق والد کو حاصل ہو گا۔

لہذا ہر ایک کا الگ الگ حکم یہ ہو گا:

ایک لڑکا: 23 سال (جہاں رہنا چاہے)

دوسرا لڑکا: 18 سال (جہاں رہنا چاہے)

ایک لڑکی: 20 سال(والد کے پاس)

دوسری لڑکی: 15 سال (والد کے پاس)

تیسری لڑکی: 12 سال (والد کے پاس)

چوتھی لڑکی: 9 سال (والد کے پاس)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق. ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها إلا أن يكون له ذو رحم محرم غيرها فحينئذ تجبر على حضانته كي لا يضيع بخلاف الأب حيث يجبر على أخذه إذا امتنع بعد الاستغناء عن الأم كذا في العيني شرح الكنز، وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير."

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر فی الحضانة، 1/541، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية ... (والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار، وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر.

(قوله: والغلام إذا عقل إلخ) ... ثم المراد الغلام البالغ لأن الكلام فيما بعد البلوغ. وعبارة الزيلعي: ثم الغلام إذا بلغ رشيدا فله أن ينفرد إلا أن يكون مفسدا مخوفا عليه إلخ. واحترز عما إذا بلغ معتوها."

(كتاب الطلاق،باب الحضانة، 3 /567-568 ، ط: سعید)

وفیہ أیضاً:

"حاصل ما ذكره في الولد إذا بلغ أنه إما أن يكون بكرا مسنة أو ثيبا مأمونة، أو غلاما كذلك فله الخيار وإما أن يكون بكرا شابة، أو يكون ثيبا، أو غلاما غير مأمونين فلا خيار لهم بل يضمهم الأب إليه."

(كتاب الطلاق،باب الحضانة، 3/ 569، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101941

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں