بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الثانی 1448ھ 15 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دینے کا شرعی طریقہ، بیوی کا نان ونفقہ، بیٹوں کی پرورش کا حق


سوال

میری شادی کو تقریبا آٹھ سال ہو چکے ہیں، کچھ عرصہ تو معاملہ ٹھیک رہا، پھر ناچاقیاں شروع ہو گئیں اور بات بات پر میری بیوی مجھ سے جھگڑنے لگی اور اپنے والد کے گھر چلی جاتی تھی اور دو تین ماہ وہیں رہتی، پھر کسی طریقے سے صلح صفائی کر کے واپس آ جاتی، اب بھی دو ماہ سے اوپر عرصہ ہوگیا ہے کہ اپنی والدہ کے ہاں بیٹھی ہوئی ہیں، اب میں بہت تنگ آگیا ہوں اور میں یہ رشتہ ختم کرنا چاہتا ہوں، میرے تین بیٹے ہیں، دو بیٹے (پانچ سالہ اور چھ سالہ) میرے پاس ہیں اور ایک ڈیڑھ سال کا بیٹا اہلیہ کے پاس ہے۔

 اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں میرے لیے یہ رشتہ ختم کرنا جائز ہے؟ نیز میری بیوی کے نفقے کے بارے میں کیا حکم ہوگا کہ ان دو ماہ کا اور آئندہ کا نان و نفقہ کس کے ذمہ ہوگا؟ اور بیٹوں کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے کہ وہ کس کی پرورش میں رہیں گے ؟شریعت کی رو سے میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

1۔شریعتِ مطہر ہ میں بیوی پر شوہر کی اطاعت  کو واجب قرار دیا گیا ہے ،بیوی کا شوہر کی نافرمانی کرنا ، اس کے ساتھ بلا وجہ لڑائی جھگڑے کرنا اور اس کی اجازت کے بغیر اپنے میکے جاکر رہنا شرعاناجائز اور باعثِ گناہ عمل ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا آپ کی بیوی مذکورہ امور کی مرتکب ہے، جو کہ آپ کے لیے ایذا رسانی کا سبب بنتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ پہلے اپنی بیوی کو خود سمجھائیں، اگر وہ باز نہ آئے تو خاندان کے معزز افراد کےذریعہ  اس کو سمجھایاجائے، اگر پھر بھی وہ نہ سمجھےتو اگر آپ اسی حالت پر صبر کر کے گزارہ  کرسکتے ہیں تو بہتر،لیکن اگر آپ مزید برداشت نہ کرسکتے ہوں تو ایسی صورت میں آپ کے لیے اپنی اس بیوی کو طلاق دینا جائز ہے۔

 طلاق دینے کابہترطریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ایسے طہر(پاکی کے زمانہ)   میں  صرف ایک طلاق ِ رجعی دے جس میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم نہ کیا ہو۔ اور ایک طلاق دینے کے بعد اگر  تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور بیوی توبہ تائب ہوجاتی ہے  تو    عدت کے دوران رجوع بھی کیا جاسکتا ہے ،اس کے بعد دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکیں گے،اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے سے ہی نکاح ختم ہوجائے گا، تاہم اگر اس کے بعد  میاں بیوی دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا  نکاح بھی ہوسکتا ہے،اور رجوع یا تجدید نکاح دونوں صورت میں  آئندہ کے لیے شوہر کو  صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔

2۔آپ کی بیوی چوں کہ آپ کی اجازت کے بغیر دو ماہ سے اپنے میکے میں رہ رہی ہے اس لیے اس کا گذشتہ دو ماہ کا نان و نفقہ آپ کے ذمہ نہیں ہے، اسی طرح آئندہ بھی جب تک وہ آپ کی اجازت کے بغیر اپنے میکے میں رہے گی اس مدت کا نان و نفقہ آپ کے ذمہ نہیں ہوگا۔

3۔بیٹوں کی کفالت (پرورش) سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ سات سال کی عمر مکمل ہونے تک ہر بیٹے کی پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے،بشرطیکہ  ان کی والدہ کسی دوسرے ایسے شخص سے شادی نہ کرلے جو بچوں کا محرم رشتے دار نہ ہو، لیکن اگر والدہ نے کسی ایسے شخص سے شادی کرلی جو بچوں کا محرم رشتے دار نہ ہو تو والدہ کا حقِ پرورش ساقط ہوجائے گا اور بچوں کی مقررہ عمر (سات سال) مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق ان کی نانی کو حاصل ہوگا، البتہ اگر نانی وفات پاگئی  تو بچے مقررہ عمر پوری ہونے تک دادی کی پرورش میں رہیں گے،جس بیٹے کی عمر سات سال مکمل ہوجائے تو اس کی پرورش کا حق اس کے والد کو حاصل ہوجائے گا۔ تینوں بیٹے خواہ والدہ کی پرورش میں ہوں یا والد کی پرورش میں دونوں صورتوں میں بیٹوں کے کمانے کے قابل ہونے تک ان کا نان و نفقہ آپ (والد) کے ذمہ ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

﴿وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (34)﴾ [النساء: 34]

ترجمہ:"اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تمہیں ان کی بد خوئی کا ڈر ہو تو ان کو سمجھاؤ اور ان کو ان کے لیٹنے کی جگہ میں تنہا چھوڑ دو اور ان کو مارو،پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنا شروع کریں تو ان پر بہانہ مت  ڈھونڈو۔"

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"ولا يخفى أن كلامهم فيما سيأتي من التعليل يصرح بأنه محظور لما فيه من كفران نعمة النكاح، وللحديثين المذكورين وغيرهما، وإنما أبيح للحاجة، والحاجة هي الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله، فشرعه رحمة منه - سبحانه - فبين الحكمين تدافع، والأصح حظره إلا لحاجة للأدلة المذكورة، ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات، أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة، وهو ظاهر في رواية لأبي داود " «ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق» "، وإن الفعل لا عموم له في الزمان غير أن الحاجة لا تقتصر على الكبر والريبة، فمن الحاجة المبيحة أن يلقي إليه عدم اشتهائها، بحيث يعجز أو يتضرر بإكراهه نفسه على جماعها، فهذا إذا وقع، فإن كان قادرا على طول غيرها مع استبقائها ورضيت بإقامتها في عصمته بلا وطء وبلا قسم، فيكره طلاقه كما كان بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وسودة، وإن لم يكن قادرا على طولها أو لم ترض هي بترك حقها، فهو مباح لأن مقلب القلوب رب العالمين، وأما ما روي عن الحسن وكان قيل له: في كثرة تزوجه وطلاقه فقال: أحب الغنى، قال الله تعالى {وإن يتفرقا يغن الله كلا من سعته} [النساء: 130] فهو رأي منه إن كان على ظاهره، وكل ما نقل عن طلاق الصحابة كطلاق عمر ابنة أم عاصم، وعبد الرحمن بن عوف تماضر، والمغيرة بن شعبة الزوجات الأربع دفعة واحدة، فقال لهن أنتن حسنات الأخلاق، ناعمات الأطراف، طويلات الأعناق، اذهبن فأنتن طلاق، فمحمله وجود الحاجة مما ذكرنا، وأما إذا لم تكن حاجة، فمحض كفران نعمة وسوء أدب فيكره، والله سبحانه وتعالى أعلم."

(كتاب النكاح، باب الخلع والطلاق، ج: 5، ص: 2137، ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر،وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه، بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:227، 229، ط: سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق.

(قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب."

(كتاب الطلاق، باب الخلع، ج3، ص441، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما الطلاق السني في العدد والوقت فنوعان حسن وأحسن فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها."

(کتاب الطلاق،ج1،ص348،ط:دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے :

"(لا) نفقة لأحد عشر...و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج3، ص575، 576، سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة النفقة والسكنى والكسوة) إن طالت المدة.

(قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة.. وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب في نفقة المطلقة، ج:3، ص:609، ط:سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(تثبت للأم) ... (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها  أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور."

(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:555، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

 "(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب ...(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.

وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع، وبه يفتى."

(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:566، ط: سعید)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن.

(قوله: لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر (قوله يعم الأنثى والجمع) أي يطلق على الأنثى كما علمته، وعلى الجمع كما في قوله تعالى {أو الطفل الذين لم يظهروا} [النور: 31] فهو مما يستوي فيه المفرد والجمع كالجنب والفلك والإمام - {واجعلنا للمتقين إماما} [الفرقان: 74]- ولا ينافيه جمعه على أطفال أيضا كما جمع إمام على أئمة أيضا فافهم."

(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:612، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101879

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں