
میں نے ایک حدیث پڑھی کہ” پیشاب کی حاجت ہو تو نماز پڑھنا ممنوع ہے، کیوں کہ انسان کا دھیان نماز میں بار بار اسی طرف جاتا ہے۔“
اب مجھے یہ وہم ستاتا ہے کہ مجھے ہلکے سے پیشاب کی حاجت ہو تو کیا میری نماز ہوگی یا نہیں؟حالاں کہ وہ شدید نہیں ہوتا، کیوں کہ وہم کی وجہ سے میرا دیہان اس طرف جاتا ہے، اور اس سے میں جماعت کی نماز بھی بہت مرتبہ چھوٹ جاتی ہے۔ کیا مجھے نماز پڑھ لینی چاہیے؟
بصورتِ مسئولہ پیشاب کے معمولی احساس یا وسوسے کی وجہ سے جماعت چھوڑنے یا نماز کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنے اِس وہم پر بالکل دھیان نہ دیں اور سکون سے جماعت کے ساتھ نماز ادا کر لیا کریں، اِس سے آپ کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔نیز حدیثِ مبارکہ میں قضائے حاجت کی شدت کی حالت میں نماز پڑھنے سے جو منع کیا گیا ہے، اس سے مراد پیشاب یا پاخانے کا ایسا شدید غلبہ ہے جس کی وجہ سے انسان بے چین ہوجائے اور نماز میں توجہ اور خشوع و خضوع قائم رکھنا ممکن نہ رہے؛ ایسی حالت میں نمازمکروہِ تحریمی ہے، تاہم اِس حالت میں بھی نماز ادا کر لینے سے فرض ادا ہو جاتا ہے، اگرچہ کراہتِ تحریمی کا گناہ ہوگا، بلکہ اگر بالفرض وقت تنگ ہو ، قضائے حاجت سے فراغت اور وضوء کرنے میں نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو تو اِسی حالت میں نماز کو وقت میں پڑھنے کا حکم ہے کیوں کہ وقتی نماز قضاءنماز سے بدرجہا بہتر و افضل ہے۔لہذا جب قضائے حاجت کا شدید غلبہ نہ ہو، بلکہ محض معمولی احساس ہو، تو بدرجہ اولیٰ نماز بلا کراہت ادا ہوگی، مذکورہ حدیث سے اِس کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی ہے۔
بذل المجہود میں ہے:
"ثم اعلم أن هذه المسألة اتفقت الأئمة عليها وقالوا بكراهة الصلاة في حال مدافعة البول والغائط.قال الحلبي في شرح "المنية" : ويكره أن يدخل في الصلاة وقد أخذه غائط أو بول، لقوله عليه الصلاة والسلام: "لا صلاة بحضرة الطعام ولا وهو يدافعه الأخبثان"، والمراد نفي الكمال كما في نظائره، وهو يقتضي الكراهة، وإن كان الاهتمام بالبول والغائط يشغله، أي يشغل قلبه عن الصلاة ويذهب خشوعه يقطعها، وإن مضى عليها أجزأه، أي كفاه فعلها على تلك الحالة، وقد أساء، وكان آثما لأدائه إياها مع الكراهة التحريمية، وكذلك الحكم إن أخذه البول أو الغائط بعد الافتتاح، أي افتتح الصلاة ولم تكن به مدافعة، فحدثت به بعد إلافتتاح، فالحكم أنه يقطعها، وإن لم يقطعها أجزأه مع الإساءة "كبيري". وفي "الدر المختار" : وكره صلاته مع مدافعة الأخبثين أو أحدهما أو الريح للنهي."
(كتاب الطهارة، ج:1، ص:465، الناشر: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند)
البحر الرائق میں ہے:
"ومنها أن يدخل في الصلاة وقد أخذه غائط أو بول وإن كان الاهتمام يشغله يقطعها وإن مضى عليها أجزأه وقد أساء وكذا إن أخذه بعد الافتتاح والأصل فيه ما رواه مسلم عن عائشة - رضي الله عنها - قالت سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول «لا صلاة بحضرة طعام ولا وهو يدافعه الأخبثان» وجعل الشارح مدافعة الريح كالأخبثين وأن الحديث محمول على الكراهية ونفي الفضيلة حتى لو ضاق الوقت بحيث لو اشتغل بالوضوء يفوته يصلي لأن الأداء مع الكراهية أولى من القضاء."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1، ص:35، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ويكره التمطي وتغميض عينيه وأن يدخل في الصلاة وهو يدافع الأخبثين وإن شغله قطعها وكذا الريح وإن مضى عليها أجزأه وقد أساء ولو ضاق الوقت بحيث لو اشتغل بالوضوء يفوته يصلي؛ لأن الأداء مع الكراهة أولى من القضاء."
(كتاب الصلاة،الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها،الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، ج:1، ص:107، ط:دارالفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101849
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن