بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امانت رکھی ہوئی چیز کے ضائع ہونے، اور امین کے اسے استعمال کرنے کا حکم


سوال

ایک صاحب نے سفر پر جاتے ہوئے میرے پاس کچھ رقم اور اپنی اہلیہ کے چند زیورات امانت رکھوائے تھے۔ میں نے وہ سب گھر کی ایک محفوظ الماری میں رکھ دیے، لیکن کچھ عرصے بعد گھر میں چوری ہو گئی اور میرا اپنا سامان بھی چلا گیا اور یہ امانت بھی۔ اب وہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ کے گھر میں لوگوں کا آنا جانا رہتا تھا، اس لیے یہ آپ کی غفلت ہے اور آپ رقم کے ذمہ دار ہیں۔

اسی طرح چوری سے پہلے ایک شادی کے موقع پر میں نے وہ زیورات ایک دو دن کے لیے اپنے گھر والوں کو پہننے کے لیے دے دیے تھے، اور امانت رکھوانے والے کو اس کی خبر نہیں تھی، البتہ اس کے بعد وہ زیورات جوں کے توں اسی جگہ رکھ دیے تھے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔چوری ہو جانے کی وجہ سے مجھ پر تاوان لازم ہے یا نہیں؟

2۔زیورات دوسروں کو پہننے کے لیے دینے کی وجہ سے میرا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ امانت رکھوائی ہوئی چیز امین کے ہاتھ میں امانت ہوتی ہے، اس کی حفاظت امین کے ذمے لازم ہے، اور مالک کے مطالبے پر اسے واپس کرنا واجب ہے۔

1۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر امین نے امانت کو ایسی جگہ رکھا جو عرفاً محفوظ سمجھی جاتی ہے، اور حفاظت میں اس سے کوئی کوتاہی یا زیادتی نہیں ہوئی، اس کے باوجود وہ چوری ہو گئی، تو امین پر کوئی ضمان لازم نہیں؛ اور محض گھر میں مہمانوں یا ملازمین کے آنے جانے سے گھر غیر محفوظ نہیں کہلاتا۔ ہاں اگر شرعاً یہ ثابت ہو جائے کہ امانت امین ہی کی غفلت اور کوتاہی سے ضائع ہوئی ہے تو تاوان امین پر لازم ہو گا۔  

2۔امین کے لیے مالک کی اجازت کے بغیر امانت کو خود استعمال کرنا، کسی اور کو استعمال کے لیے دینا، کرائے پر دینا یا رہن رکھنا جائز نہیں؛ ایسا کرنا تعدی ہے اور اس سے امین ضامن بن جاتا ہے۔ چناں چہ سائل کا زیورات دوسروں کو پہننے کے لیے دینا شرعاً جائز نہیں تھا اور مالک کی حق تلفی تھی، اس پر توبہ اور مالک سے معذرت لازم ہے۔ البتہ چوں کہ سائل نے تعدی کے بعد وہ زیورات دوبارہ اپنے قبضے میں لے کر اسی محفوظ جگہ رکھ دیے تھے اور استعمال سے ان میں کوئی نقص یا کمی پیدا نہیں ہوئی، اس لیے تعدی زائل ہو جانے کی بنا پر پہلے کا ضمان ساقط ہو گیا، اور بعد میں بلا تعدی چوری ہو جانے کی وجہ سے سائل پر ضمان لازم نہیں۔  

قرآنِ کریم میں ہے:

"إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها"

(سورۃ النساء: 58)

"فليؤد الذي اؤتمن أمانته وليتق الله ربه"

(سورۃ البقرۃ: 283)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر. متفق عليه. (إذا اؤتمن) بالبناء للمفعول أي وضع عنده أمانة (خان) أي بالتصرف غير الشرعي."

(کتاب الایمان، باب الکبائر، ج:1، ص:128، ط: دار الفکر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"ومنها: أنه إذا ضاعت في يد المودع بغير صنعه لا يضمن، لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: ليس على المستعير غير المغل الضمان ولا على المستودع غير المغل الضمان؛ ولأن يده يد المالك، فالهلاك في يده كالهلاك في يد المالك."

(کتاب الودیعۃ، فصل في بيان حال الوديعة، ج:8، ص:363، ط: دار الکتب)

المحیط البرہانی میں ہے:

"إذا كانت الوديعة دراهم، فاختلط بدراهم المودع على وجه تيسر التمييز لا يصير المخلوط مشتركا بينهما، فإن اختلطت على وجه تعذر التمييز صار المخلوط مشتركا بينهما."

(کتاب الودیعۃ، الفصل العاشر في المتفرقات، ج:5، ص:549، ط: دار الکتب)

الفتاوی الہندیۃ میں ہے:

"وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني. الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."

(کتاب الودیعۃ، الباب الاول، ج:4، ص:338، ط: دار الفکر)

وفیہ ایضاً:

"وإذا تعدى المودع في الوديعة بأن كانت دابة فركبها أو ثوبا فلبسه أو عبدا فاستخدمه أو أودعها عند غيره ثم أزال التعدي فردها إلى يده زال الضمان، وهذا إذا كان الركوب والاستخدام واللبس لم ينقصها، أما إذا نقصها ضمن، كذا في الجوهرة النيرة."

(کتاب الودیعۃ، الباب الرابع، ج:4، ص:347، ط: دار الفکر)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(وكذا لو خلطها المودع) بجنسها أو بغيره (بماله) أو مال آخر (بغير إذن) المالك (بحيث لا تتميز) إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف مجتبى (ضمنها) لاستهلاكه بالخلط."

(کتاب الایداع، ج:5، ص:668، ط: سعید)

ردالمحتار میں ہے:

"(قوله لا تتميز) فلو كان يمكن الوصول إليه على وجه التيسير كخلط الجوز باللوز والدراهم السود بالبيض فإنه لا ينقطع حق المالك إجماعا، واستفيد منه أن المراد بعدم التمييز عدمه على وجه التيسير لا عدم إمكانه مطلقا."

(کتاب الایداع، ج:5، ص:669، ط: سعید)

شرح المجلۃ للاتاسی میں ہے:

"الوديعة أمانة في يد الوديع، فإذا هلكت بلا تعد من المستودع وبدون صنعه وتقصيره في الحفظ لا يلزم الضمان."

(الکتاب السادس في الامانات، الباب الثاني في الودیعۃ، الفصل الثاني في احکام الودیعۃ وضمانها، المادۃ:777، ج:3، ص:242، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144803101842

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں