
مجھ سے اکثر نماز میں بھول ہو جاتی ہے، کبھی پہلی رکعت کے بعد بیٹھ جاتا ہوں، کبھی قعدۂ اولیٰ چھوٹ جاتا ہے اور کبھی رکعت زیادہ ہو جاتی ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ سجدۂ سہو کن صورتوں میں واجب ہوتا ہے، اور اگر واجب ہونے کے باوجود بھول کر سجدۂ سہو کیے بغیر سلام پھیر دوں تو کیا کروں؟
واضح رہے کہ نماز میں بھول کر کوئی واجب چھوٹ جانے، یا کسی فرض یا واجب کے مقدم مؤخر ہو جانے، یا واجب کے دہرا دینے، یا واجب کی کیفیت بدل جانے، مثلاً جہری نماز میں آہستہ اور سری میں بلند آواز سے پڑھ دینے سے سجدۂ سہو واجب ہو جاتا ہے، اور در حقیقت ان تمام صورتوں کا حاصل ایک ہی بات ہے، یعنی ترکِ واجب۔ چناں چہ سوال میں مذکور تینوں صورتوں میں سجدۂ سہو واجب ہو گا۔
سجدۂ سہو کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ قعدۂ اخیرہ میں پوری التحیات پڑھنے کے بعد، درود اور دعا پڑھے بغیر، صرف دائیں طرف ایک سلام پھیر کر دو سجدے کیے جائیں، پھر بیٹھ کر التحیات، درود اور دعا پڑھ کر دونوں طرف سلام پھیرا جائے۔
اور اگر سجدۂ سہو واجب ہونے کے باوجود رہ گیا اور سلام پھیر دیا تو وقت کے اندر اندر اس نماز کا اعادہ کر لیا جائے؛ وقت نکل جانے کے بعد اعادہ واجب نہیں رہتا۔
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:
"الباب الثاني عشر في سجود السهو، وهو واجب، كذا في التبيين، هو الصحيح، كذا في الهداية، والوجوب مقيد بما إذا كان الوقت صالحا، حتى إن من عليه السهو في صلاة الصبح إذا لم يسجد حتى طلعت الشمس بعد السلام الأول سقط عنه السجود."
(کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:125، ط: رشیدیۃ)
وفیہ ایضاً:
"ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت، وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي."
(کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:126، ط: رشیدیۃ)
وفیہ ایضاً:
"رجل صلى الظهر خمسا وقعد في الرابعة قدر التشهد."
(کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص:129، ط: رشیدیۃ)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
”دراصل سجدہ سہو ترکِ واجب سے ہی لازم ہوتا ہے، مگر چوں کہ تاخیرِ واجب میں بھی ترکِ واجب لازم آتا ہے، اس لیے تاخیرِ واجب سے بھی سجدۂ سہو لازم آتا ہے۔“
(ج:4، ص:266، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101798
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن