بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الثانی 1448ھ 16 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھڑے ہو کر پانی پینے کا حکم


سوال

کیا کھڑے ہو کر پانی پینا سنت کے خلاف ہے؟

جواب

کھڑے ہو کر پانی پینا خلافِ سنت ہے لیکن گناہ کا باعث نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھڑے ہو کر پانی پینا ثابت ہے، تاہم بلا ضرورت کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہِ تنزیہی اور خلافِ ادب ہے، بیٹھ کر پانی پینے سے جو ثواب ملنا تھا اس سے محرومی ہو گی اور اگر کسی مجبوری (رش یا کیچڑ وغیرہ) کی وجہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا تو کراہت بھی نہ ہو گی۔

صحیح بخاری میں ہے:

"حدثنا أبو نعيم: حدثنا مسعر، عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال قال: أتى علي رضي الله عنه على باب الرحبة بماء فشرب قائما، فقال: إن ناسا يكره أحدهم أن يشرب و هو قائم، وإني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم فعل كما رأيتموني فعلت."

(كتاب الأشربة، باب: الشرب قائما، ج:5، ص:2130، ط: دار ابن كثير)

عمدۃ القاری میں ہے:

"واعلم أنه روي في الشرب قائما أحاديث كثيرة. منها: النهي عن ذلك... ومنها: إباحة الشرب قائما... وقال النووي: إعلم أن هذه الأحاديث أشكل معناها على بعض العلماء، حتى قال فيها أقوالا باطلة، والصواب منها: أن النهي محمول على كراهة التنزيه، وأما شربه قائما فلبيان الجواز، ومن زعم نسخا فقد غلط، فكيف يكون النسخ مع إمكان الجمع، وإنما يكون نسخا لو ثبت التاريخ فأنى له ذلك؟ وقال الطحاوي ما ملخصه: أنه صلى الله عليه وسلم أراد بهذا النهي الإشفاق على أمته، لأنه يخاف من الشرب قائما الضرر، وحدوث الداء، كما قال لهم: أما أنا فلا آكل متكئا. انتهى."

(کتاب الحج، باب ماجاء فی زمزم، ج:9، ص:278،279، ط: داراحیاء التراث العربي)

 فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا بأس بالشرب قائما، ولا يشرب ماشيا ورخص للمسافرين، ولا يشرب بنفس واحد، ولا من فم السقاء والقربة؛ لأنه لا يخلو عن أن يدخل حلقه ما يضره، كذا في الغياثية."

(کتاب الکراهیة، الباب الحادي عشر فی الکراهة فی الأکل و مایتصل به، ج:5 ص:341 ط: دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما المكروه كراهة تنزيه فإلى الحل أقرب اتفاقا.

(قوله: فإلى الحل أقرب) بمعنى أنه لا يعاقب فاعله أصلا، لكن يثاب تاركه أدنى ثواب تلويح، وظاهره أنه ليس من الحلال، ولا يلزم من عدم الحل الحرمة ولا كراهة التحريم، لأن المكروه تنزيها كما في المنح مرجعه إلى ترك الأولىٰ."

(کتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:337 ط: دارالفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803101759

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں