بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آرڈر پر تیا شدہ مال موصول ہونے کے ایک سال بعد معاملہ سے انکار کرنے کاحکم / کپڑوں میں استصناع کاحکم


سوال

میں نے ایک تاجر سے کپڑوں کی خرید فروخت  کے متعلق ایک معاملہ کیا، اس طرح کہ انہوں نے ڈیزائن، کپڑے کی کوالٹی، سائز وغیرہ سب دیکھے، اور اس تاجر کو سیمپل بھی دکھایا گیا۔ انہوں نے  سیمپل دوسرے دکانداروں کو بھی دکھائے اور خوب اطمینان کرنے کے بعد آرڈر دیا۔ اور یہ بھی کہا کہ  اس طرح کا مال ہمارے ہاں (قطر) میں فروخت ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس آرڈر پر تقریباً بائیس لاکھ روپے (22,00,000) کا مال تیار کیا گیا۔

 تاجر نے کہا کہ فلاں شخص مال وصول کرے گا،اور اُسے وصول کرنے کا وکیل بنایا تھا۔مال اصل خریدار تک موصول ہوگیاہے۔ مذکورہ معاملے کے وقت ادائیگی کی مدت کا کوئی ذکر نہیں ہوا؛ کیونکہ عرف میں عموماً تاجر حضرات تین ماہ کے اندر ادائیگی کرتے ہیں۔اب تقریباً ایک سال ہونے کو ہے کہ انہوں نے ادائیگی نہیں کی۔نیز تاجر اب یہ کہہ رہا ہے کہ جو مال  فروخت ہوگا، میں صرف اسی کی ادائیگی کروں گا؛ کیونکہ میں نے بہرحال آپ سے مال خریدا ہی نہیں تھا۔

براہ کرم  مذکورہ معاملہ کا حکم بتائیں ۔کیا یہ معاملہ شرعاً درست ہوا تھا یا نہیں؟ اور اب جانبین پر کیا لازم ہے۔ 

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ تاجر نے خوب اطمینان کے بعد مال تیار کرنے کا آرڈر دیا اور اپنے وکیل کے ذریعہ مال کواپنے  قبضہ میں نا صرف لیا تھا، بلکہ قطر میں  مال تاجر تک موصول بھی ہوچکاہے،تو تاجر کے عرف کے مطابق مال کی  طے شدہ قیمت ادا کرنا مذکورہ تاجر پر لازم ہے، تاجر کا یہ کہنا کہ: ” جو مال فروخت ہوگا، میں صرف اس کی قیمت ادا کروں گا؛ کیوں کہ میں نے بہر حال آپ سے مال خریدا ہی نہیں تھا“ شرعاً درست نہیں ؛ کیوں کہ سائل اور تاجر کے درمیان جو معاملہ طے پایا تھا اُسے شریعت کی اصطلاح میں ” استصناع“ کہا جاتاہے، جس حکم یہ ہے کہ آرڈر دینے والے کی چاہت و منشاء کے مطابق جب مال تیار کرکے حوالہ کردیا جائے، تو آرڈر دینے والے پر اس مال کی طے شدہ قیمت ادا کرنا لازم ہوجاتاہے؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں تاجر کی جانب سے قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا از روۓ حدیث ” ظلم “ ہے، اور ظالم کے بارے احادیث میں سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں، پس مذکورہ تاجر کو جلد از جلد ادائیگی کردینا چاہیے، تاکہ آخرت کی پکڑ سے محفوظ رہ سکے۔ 

سنن الترمذي میں ہے: 
" عن أبي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: مطل الغني ظلم، وإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع."

ترجمہ:” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیے کہ اس کی حوالگی قبول کرے۔“

(أبواب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في مطل الغني أنه ظلم، ج: 2، ص: 576، ط: دار الغرب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے: 
" (والاستصناع) هو طلب عمل الصنعة (بأجل) ذكر على سبيل الاستمهال لا الاستعجال فإنه لا يصير سلما (سلم) فتعتبر شرائطه (جرى فيه تعامل أم لا) وقالا الأول استصناع (وبدونه) أي الأجل (فيما فيه تعامل) الناس (كخف وقمقمة وطست) ... (صح) الاستصناع (بيعا لا عدة) على الصحيح ثم فرع عليه بقوله (فيجبر الصانع على عمله ولا يرجع الآمر عنه).

(قوله جرى فيه تعامل) كخف وطست وقمقمة ونحوها درر (قوله أم لا) كالثياب ونحوها درر."

(كتاب البيوع، باب السلم، مطلب في الاستصناع، ج: 5، ص: 223، ط: سعيد)

تكملة حاشية ابن عابدين  قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار میں ہے: 
" وفي 983: كل شئ تعومل بيعه بالاستصناع يصح فيه على الاطلاق إذا وصف المصنوع وعرفه على الوجه الموافق المطلوب ويلزم، وليس لاحدهما الرجوع إذا كان على الاوصاف المطلوبة، وإذا خالف يكون المشتري مخيرا."

(كتاب الدعوى، باب دعوى الرجلين، ج: 8، ص: 118، ط:  الفكر)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكاممیں ہے: 
" (المادة:  392) إذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع.(المادة 392) و إذا انعقد الاستصناع؛ فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرا.الإستصناع بيع وليس وعدا مجردا.(الدرر والغرر) فإذا انعقد؛ فليس لأحد العاقدين على رواية أبي يوسف الرجوع عنه بدون رضاء الآخر راجع المادة ( 375 ) . فيجبر الصانع على عمل الشيء المطلوب وليس له الرجوع عنه؛ لأن الذي يبيع مالا لم يزد له خيار. 

راجع المادة (332) . و كذلك ليس للمستصنع أن يرجع عنه؛ لأنه لو جعل له الخيار للحق البائع إضرار؛ لأنه قد لا يرغب في المصنوع أحد غير المستصنع." 

(الكتاب الأول البيوع، الباب السابع في بيان أنواع البيع وأحكامه، الفصل الرابع في بيان الاستصناع، ج: 1، ص: 424، ط: دار الجيل)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144803101689

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں