
ہمارے گاؤں میں ایک صورت پیش آئی ہے : ایک شخص نے اپنی زمین اپنے پڑوسی سے پوچھے بغیر دوسرے آدمی کے ہاتھ فروخت کر دی، اور خریدار کو قبضہ بھی دے دیا۔ پڑوسی نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا، مگر اُس وقت کچھ نہیں کہا۔ اب دو سال بعد وہ شفعہ کا دعویٰ کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارے دین میں پڑوسی کو ایسا کوئی حق ملتا ہے، اب معلوم ہوا ہے تو میں اپنا حق لوں گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب اسے حقِ شفعہ ملے گا؟ اور شفعہ کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ حقِ شفعہ کے لیے شریعت نے فوری مطالبہ کو شرط قرار دیا ہے، اور اس کے تین مراحل مقرر کیے ہیں:
پہلا مرحلہ ”طلبِ مواثبت“ ہے، یعنی جس مجلس میں شفیع کو زمین یا جائیداد فروخت ہونے کی خبر پہنچے، اسی مجلس میں فوراً زبان سے اپنے حقِ شفعہ کا اعلان کرے، مثلاً یہ کہے کہ ”میں اس مبیع کا شفیع ہوں“ یا ”میں شفعہ کا مطالبہ کرتا ہوں“۔
دوسرا مرحلہ ”طلبِ اشہاد“ ہے، یعنی وہاں سے اٹھ کر فروخت کنندہ کے پاس، یا خریدار کے پاس (جس کے قبضے میں زمین ہو)، یا خود اس فروخت شدہ زمین کے پاس جا کر گواہوں کی موجودگی میں شفعہ کے مطالبے کا اعلان کرے۔
تیسرا مرحلہ ”طلبِ خصومت“ ہے، یعنی اس کے بعد عدالت میں حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کرے۔
اگر شفیع بیع کی خبر سن کر خاموش رہا اور اسی مجلس میں شفعہ کا اعلان نہ کیا، یا اٹھ کر کسی اور کام میں مشغول ہو گیا، تو اس کا حقِ شفعہ ساقط ہو جائے گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چوں کہ پڑوسی نے بیع کے وقت اور اس کے بعد بھی شفعہ کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، اس لیے اس کا حقِ شفعہ ساقط ہو چکا ہے، اب دو سال بعد اس کا دعویٰ کرنا درست نہیں۔ اور اس کا یہ کہنا کہ ”مجھے حقِ شفعہ کا علم ہی نہیں تھا“ شرعاً معتبر نہیں، اس لیے کہ شرعی احکام سے لاعلمی عذر شمار نہیں ہوتی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) يبطلها (تسليمها بعد البيع) علم بالسقوط أو لا (فقط) لا قبله...(قوله: علم بالسقوط أو لا) قال في المنح: لأنه لا يعذر بالجهل بالأحكام في دار الإسلام اهـ. والأوضح أن يذكره فيما إذا سكت؛ لأنه هو الذي يتوهم كون الجهل فيه عذراً، أما عند التسليم منه فلا وجه له ط. قلت: فالمناسب ما في التتارخانية: علم بوجوب الشفعة أو لا، وعلم من سقط إليه هذا الحق أو لا."
(كتاب الشفعة، باب ما يبطل الشفعة، ج:6، ص:240، ط: سعيد)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(مادة 1028): يلزم في الشفعة ثلاثة طلبات، وهي: طلب المواثبة، وطلب التقرير والإشهاد، وطلب الخصومة والتملك.(مادة 1029): ويلزم الشفيع أن يقول كلاماً يدل على طلب الشفعة في المجلس الذي سمع فيه عقد البيع في الحال، كقوله: أنا شفيع المبيع، أو أطلبه بالشفعة، ويقال لهذا: طلب المواثبة."
(الكتاب التاسع، الفصل الثالث، ج:2، ص:178، ط: دار الجيل)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"الشفعة تجب بالعقد والجوار، وتتأكد بالطلب والإشهاد، وتتملك بالأخذ، ثم الطلب على ثلاثة أنواع: طلب مواثبة، وطلب تقرير وإشهاد، وطلب تمليك. (أما طلب المواثبة) فهو أنه إذا علم الشفيع بالبيع ينبغي أن يطلب الشفعة على الفور ساعتئذ، وإذا سكت ولم يطلب بطلت شفعته، وهذه رواية الأصل المشهور عن أصحابنا... (وأما طلب الإشهاد) فهو أن يشهد على طلب المواثبة حتى يتأكد الوجوب بالطلب على الفور... ثم طلب الإشهاد مقدر بالتمكن من الإشهاد، فمتى تمكن من الإشهاد عند حضرة واحد من هذه الأشياء ولم يطلب الإشهاد بطلت شفعته نفياً للضرر عن المشتري."
(كتاب الشفعة، الباب الثالث في طلب الشفعة، ج:5، ص:201-202، ط: دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"وأما الدلالة فهو أن يوجد من الشفيع ما يدل على رضاه بالعقد، وحكمه للمشتري، نحو ما إذا علم بالشراء فترك الطلب على الفور من غير عذر، أو قام عن المجلس، أو تشاغل عن الطلب بعمل آخر على اختلاف الروايتين... تسليم الشفعة قبل البيع لا يصح، وبعده صحيح، علم الشفيع بوجوب الشفعة أو لم يعلم، علم من أسقط إليه هذا الحق أو لم يعلم، كذا في المحيط."
(كتاب الشفعة، الباب التاسع فيما يبطل به حق الشفعة بعد ثبوته وما لا يبطل، ج:5، ص:182، ط: دار الفكر)
المحیط البرہانی میں ہے:
"والجهل في دار الإسلام ليس بعذر."
(كتاب النكاح، الفصل التاسع عشر: في نكاح الكفار، ج:3، ص:144، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101669
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن