بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الثانی 1448ھ 19 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بغیرکسی وجہ کے عورت کا شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا


سوال

میری بیوی اپنے خاندانی مداخلت کی وجہ سے میرے ساتھ ناجائز رویہ اختیار کرنے لگی، جس کی وجہ سے ہماری ناچاقی ہوگئی۔

اس کے بعد میں نے دار الافتاء سے اس سلسلے میں رجوع کیا، بعد ازاں فتویٰ کی روشنی میں تمام تدابیر اختیار کیں، لیکن میری بیوی اپنے ناجائز رویہ سے باز نہیں آئی، تو مجبور ہو کر میں نے دو طلاقِ رجعی دیں، اس کے بعد دورانِ عدت میں نے بیوی سے رجوع کر لیا تھا  ۔

ابھی مسئلہ یہ ہے کہ کافی عرصے سے میری بیوی گردے کے مرض میں مبتلا ہے، ڈائیلاسز پر ہے، اور وہ مجھ سے بلا کسی شرعی وجہ کے تیسری طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جبکہ میں بیوی کی اس سخت کنڈیشن کو دیکھ کر طلاق کا فیصلہ نہیں کر سکتا ہوں، اور نہ ہی میں اسے اپنی زوجیت سے الگ کرنا چاہتا ہوں، مگر میری بیوی میرے مطالبے کے باوجود میرے پاس نہیں آرہی ہے اور نہ ہی وہ میرے پاس رہنے کے لیے تیار ہے، وہ تیسری طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے۔

وضاحت: میں اپنی بیوی کے حقوق (یعنی نان و نفقہ، لباس وغیرہ) کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ہوں، اس کے تمام حقوق اچھے طریقے سے ادا کرتا ہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ: مذکورہ صورت میں میری بیوی کے لیے اور میرے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ نیز بغیر کسی وجہ کے میری بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا اور میرے مطالبہ کرنے کے باوجود میرے ساتھ نہ آنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً شوہر اپنی بیوی کے حقوق (نان، نفقہ اور رہائش وغیرہ) تو مکمل ادا کر رہا ہے، اس میں کوتاہی نہیں کرتا ہے، اس کے باوجود بیوی اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی  ، اور بلا کسی شرعی وجہ کے تیسری طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، تو ایسی صورت میں مذکورہ عورت کا رویہ شرعاً درست نہیں ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ایسی عورت کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں، ایک   حدیث میں ہے: 'جو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔'

لہٰذا سائل کی اہلیہ کو چاہیے کہ اپنے شوہر کے ساتھ رہ کر اپنا گھر بسانے کی کوشش کریں، معمولی باتوں پر ناراض ہو کر شوہر کے قریب نہ جانے اور اس سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں۔ اپنے شوہر کے حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھیں، نیز اب تک جو شوہر کی حق تلفی ہوئی ہے، اس پر اپنے شوہر سے معافی مانگیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے اس عمل پر توبہ و استغفار کریں، اور آئندہ شوہر کے حقوق کا مکمل طور پر خیال رکھیں۔

نیز اس صورت میں شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کے طلاق کے مطالبے کی اصل وجہ معلوم کرے، یعنی جس بات کی وجہ سے طلاق کی نوبت پیش آ رہی ہے، اس کو معلوم کر کے حل کرنے کی کوشش کرے، اگر شوہر کے لیے مسئلے کا حل ممکن نہیں تو خاندان کے بڑوں کو بھی مسئلے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے، ممکن ہے کہ وہ اس کی کوئی بہتر صورت نکال سکیں، اور طلاق یا خلع کی نوبت نہ آئے۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

عن ثوبان قال:" قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما ‌امرأة ‌سألت ‌زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي."

ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا"جو عورت اپنے خاوند سے بلاضرورت طلاق مانگےاس پر جنت کی بو حرام ہوگی "(مظاہر حق)

(كتاب النكاح ،باب الخلع والطلاق،ج:2،ص، 978،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

دوسری جگہ ہے:

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح."

(باب عشرة النساء،الفصل الاول، ج:2، ص:968،الرقم :3246،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

ترجمہ: ”رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لیے بلائے اور وہ انکار کردے، اور پھر شوہر (اس انکار کی وجہ سے) رات بھر غصہ کی حالت میں رہے  تو فرشتہ اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے  رہتے ہیں۔“(مظاہر حق)

فقط واللہ علم


فتویٰ نمبر : 144803101644

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں