
عرض یہ ہے کہ میری ایک جنرل اسٹور کی دکان ہے، کاروبار کے دوران اکثر گاہک ہم سے ادھار (قرض) پر سامان خریدتے ہیں، ادھار سودا بیچنے کی وجہ سے ہمارا سرمایہ ایک طویل عرصے کے لیے بند (بلاک) ہو جاتا ہے اور بسا اوقات اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس سے ہمیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس صورتِ حال کے پیشِ نظر شرعی راہنمائی درکار ہے:
ادھار میں زیادہ سے زیادہ منافع کی حد: کیا شریعت میں ادھار سامان بیچتے وقت منافع کی کوئی مخصوص حد مقرر ہے؟
اگر نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق رکھنا جائز ہے، تو کیا ۱۰۰ روپے والی چیز ادھار پر ۳۰۰ یا ۴۰۰ روپے کی بیچی جا سکتی ہے؟
خریدار (مشتری) کو بتائے بغیر قیمت بڑھانا: اگر گاہک کو یہ بتائے بغیر کہ اس چیز کی نقد قیمت ۱۰۰ روپے ہے، ہم ادھار کی وجہ سے خریدار کو وہی چیز ۳۰۰ یا ۴۰۰ روپے کی بتائیں اور وہ اس قیمت پر راضی ہو کر لے جائے، تو کیا ایسا کرنا اور اس سے حاصل ہونے والا منافع شرعاً جائز اور حلال ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں شرعی حکم بیان فرما کر ممنون فرمائیں۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے خرید و فروخت کی صحت کا مدار عاقدین کی باہمی رضامندی پر رکھا ہے اور منافع کے حوالہ سے کسی قسم کی پابندی یا حد مقرر نہیں کی، بلکہ اس معاملہ کو عرف پر چھوڑ دیا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے سامان نقد کے بجائے ادھار پر زیادہ قیمت میں فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، اور اس سے حاصل ہونے والا منافع حلال ہے،البتہ عام بازار کے عرف سے بہت زائد منافع لینا اور کسی شخص کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا مناسب نہیں،نیز ادھار فروخت کرنے کی صورت میں ابتداء میں ہی ایک قیمت کا طے کرنا اورادائیگی کی مدت کا معلوم ہونا ضروری ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إذا زاد زيادة لا يتغابن الناس فيها فإني لا أحب أن يبيعه مرابحة حتى يبين."
(کتاب البيوع، الباب الرابع عشر في المرابحة والتولية والوضيعة، ج:3، ص:161، ط: دارالفكر)
البحر الرائق میں ہے :
"لأن للأجل شبها بالمبيع ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجل الأجل."
(کتاب البیع، باب المرابحة والتولية، ج:6، ص:124، ط: دارالكتاب الإسلامي)
درر الحکام شرح غرر الحکام میں ہے:
"إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع.
يعني أن التأجيل إذا كان بالأيام أو الشهور أو السنين أو بطريق آخر فهو صحيح ما دام الأجل معلوما (بحر) وعلى هذا إذا باع إنسان من آخر متاعا وهو صحيح وسلمه إليه ثم توفي فليس لورثته أن يأخذوا الثمن من المشتري قبل حلول الأجل؛ لأن الأجل الذي هو حق المدين لا يبطل بوفاة الدائن علي أفندي وهذه المادة فرع للمادة."
(الکتاب البیوع ، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل ،ج:1، ص: 228، ط: دارالجیل)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803101630
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن