
میں نے ایک شخص سے مکان خریدا جس کی کل قیمت چالیس لاکھ پچاس ہزار روپے طے ہوئی اور ادائیگی کا وقت ایک سال آٹھ ماہ طے ہوا، جب کہ موقع پر میں نے آٹھ لاکھ ادا کردیے ، باقی رقم کے متعلق یہ طے ہوا کہ ہر چار ماہ بعد پانچ لاکھ روپے ادا کرنے ہیں اور جو باقی رقم رہ جائےگی معینہ مدت میں اس کے ادا کرنے کا پابند ہوں گا ۔
اب یہ معاملہ جب طے پاگیا تو میں نے بائع سے کہا کہ مکان رہائش کے لیے میرے حوالے کرو، بائع نے کہا اگر آپ نے رہائش اختیار کرنی ہے تو کرایہ ادا کرنا ہوگا بارہ ہزار، میں نے کہا دس ہزار دوں گا اور 6ماہ تک میں دس ہزار ادا کرتا رہا، پھر میں نے بائع سے کہا کہ آپ کے لیے تو کرایہ لینا جائز نہیں ہے میرے خیال سے کیونکہ بیع ہونے کے بعد مکان میری ملکیت میں آگیا ہے تو آپ کس چیز کا کرایہ مجھ سے وصول کررہے ہیں؟
ابھی جب میں مکمل پیسے ادا کرچکا ہوں تو بائع کی طرف سے اس بیع میں ایک دھوکہ ظاہر ہوا ہے؛ وہ یہ کہ مکان ایک گلی میں ہے اور بائع نے جب مکان مجھے دیا تھا توکہا تھا کہ گلی ہماری پرسنل ہے جب کہ اس اس گلی میں ایک اور شخص کے گھر کا دروازہ بھی تھا اور بائع کا کہنا یہ تھا کہ یہ پڑوسی ہیں ،غریب ہیں ،اچھے لوگ ہیں ، ہم نے اس لیے کبھی بھی ان کا دروازہ بند نہیں کیا، جب میں نے بائع سے کہا کہ مجھے گلی کلئیر کروا کر دیں یہ آپ کے ذمہ ہے تو بائع نے کہا گلی کے جتنے پیسے بنتے ہیں وہ آپ مجھ سے لے لیں تو میں نے انکار کر دیا۔
1- مسئولہ صورت میں کرایہ کا کیا حکم ہے؟
2- گلی کلئیر نہ ہونے کی صورت میں کیا حکم ہے ؟
1واضح رہے کہ جب دو متعاقدین کے درمیان کسی چیز کی خرید و فروخت کا معاملہ باہمی رضامندی سے طے ہوجائے تو شرعاً خریدار کی ملکیت فروخت کی ہوئی چیز پر ثابت ہوجاتی ہے۔
چنانچہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکان کا سودا چالیس لاکھ پچاس ہزار روپے میں طے پا کر ایجاب و قبول مکمل ہو گیاتھا ، تو اس سے بیع مکمل ہوچکی تھی ، لہذا فروخت کرنے والے کے لیے کرایہ لینا شرعاً جائز نہیں تھا، بائع یعنی فروخت کنندہ پر لازم ہے کہ وہ 6 ماہ کا وصول کردہ تمام کرایہ سائل کو واپس لوٹائے۔
2۔ نیز عقدِ بیع کے وقت مبیع (فروخت ہونے والی چیز) کو خریدنے پر رغبت دلانے کے لیے جن اوصاف اور معیار کو بیان کیا جاتا ہے، مبیع میں ان اوصاف اور معیار کا موجود ہونا ضروری ہے، اگر مبیع بیان کردہ اوصاف اور معیار کے مطابق نہیں ہے تو مشتری (خریدار) کو اختیار ہوتا ہے، چاہے تو وہ بیع (خرید وفروخت کا معاملہ) کو فسخ کرکے مذکورہ مبیع نہ لے، اور چاہے تومبیع کو کل قیمت (طے شدہ قیمت) پر لے لے۔
بصورتِ مسئولہ مذکورہ مبیع (خریداہوا مکان) بیان کردہ اَوصاف کہ " گلی ہماری پرسنل ہے" کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں مشتری (سائل) کو اختیار ہےکہ مکان واپس کرکے اپنی دی ہوئی پوری رقم واپس لے لے،اور چاہے تومکان کو کل قیمت (طے شدہ قیمت) پر لے لے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ويسلم الثمن أولا في بيع سلعة بدنانير ودراهم) إن أحضر البائع السلعة أو ثمن بمثله (سلما معا) ما لم يكن أحدهما دينا كسلم وثمن مؤجل
(قوله: إن أحضر البائع السلعة) شرط لإلزام المشتري بتسليم الثمن أولا والشرط أيضا كون الثمن حالا، وأن لا يكون في البيع خيار للمشتري، فلا يطالب بالثمن قبل حلول الأجل ولا قبل سقوط الخيار. وأفاد أن للبائع حبس المبيع حتى يستوفي كل الثمن."
(کتاب البیوع، ج:4، ص:560، ط:سعید)
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"قال أصحابنا رحمهم الله تعالى: للبائع حق حبس المبيع لاستيفاء الثمن إذا كان حالا كذا في المحيط. و إن كان مؤجلًا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده."
(کتاب البیوع، ج:3، ص:15، ط:رشیدیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(اشترى عبدا بشرط خبزه أو كتبه) أي حرفته كذلك (فظهر بخلافه) بأن لم يوجد معه أدنى ما ينطلق عليه اسم الكتابة أو الخبز (أخذه بكل الثمن) إن شاء (أو تركه) لفوات الوصف المرغوب فيه ولو ادعى المشتري أنه ليس كذلك لم يجبر على القبض حتى يعلم ذلك وكذا سائر الحرف اختيار، ولو امتنع الرد بسبب ما قوم كاتبا وغير كاتب ورجع بالتفاوت في الأصح."
(کتاب البیوع، مطلب فی خیار التعین، ج:4، ص:587، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101589
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن