بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الاول 1448ھ 13 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی بیوی کو ”آپی“  یا ”بہن“  کہہ کر پکارنے سے وقوعِ طلاق کا حکم


سوال

میری بیٹی چھ سال سے اپنے میکے میں  بیٹھی ہے، شوہر لینے نہیں آرہے ،  وہ سب کے سامنے بار بار کہتا ہے کہ ”میرا نکاح نہیں ہوا“  اور میری بیٹی کو ”آپی“  یا ”بہن“  کہہ کر پکارتا ہے۔

شرعی حکم ارشاد فرمائیں کہ کیا نکاح برقرار ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیٹی کا مذکورہ شخص کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے شرعی  طورپر  نکاح ہوا ہے،  تو  پھر شوہر کا یہ کہنا  کہ ”میرا نکاح نہیں ہوا“ درست نہیں ہے، اور اس جملے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اسی طرح  اپنی بیوی کو ”آپی“ یا ”بہن“  کہہ کر پکارنے سے بھی کوئی طلاق واقع ہوئی ہے، الغرض سائل کی بیٹی کا نکاح برقرار ہے۔

  البتہ بیوی  کو ”آپی“ یا ”بہن“   کہنا  مکروہ ہے،حدیثِ مبارک میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنی بیوی کو بہن کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند کیا ، اور اس کو اس سے منع کیا۔ لہٰذا شوہر کو  چاہیے کہ اپنے اس فعل پر توبہ و استغفار کرے اور اپنی بیوی کو  گھر لے جا کر  اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا شروع کردے، بصورتِ دیگر وہ گناہ گار ہوگا۔

نوٹ: اگر شوہر کسی وجہ سے نکاح کا انکار کر رہا ہے، تو مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کریں۔ 

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي تميمة الهجيمي، أن رجلا قال لامرأته: يا أخية، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أختك هي؟ " فكره ذلك ونهى عنه."

(سنن أبي داود، کتاب الطلاق، باب في الرجل یقول لامرأته: یا أختي، ج: 3، ص: 532، حدیث رقم: 2210، ناشر: دار الرسالة العالمية)

رد المحتار میں ہے:

"(قوله لا تطلق اتفاقا وإن نوى) ومثله قوله لم أتزوجك أو لم يكن بيننا نكاح، أو لا حاجة لي فيك بدائع لكن في المحيط ذكر الوقوع في قوله عند سؤاله. قال: ولو قال: لا نكاح بيننا يقع الطلاق والأصل أن نفي النكاح أصلا لا يكون طلاقا بل يكون جحودا ونفي النكاح في الحال يكون طلاقا إذا نوى وما عداه فالصحيح أنه على هذا الخلاف اهـ بحر."

(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج: 3، ص: 283، ط: سعید)

وفیہ ایضًا: 

"(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.

(قوله: ويكره إلخ) جزم بالكراهة تبعا للبحر والنهر والذي في الفتح: وفي أنت أمي لا يكون مظاهرا، وينبغي أن يكون مكروها، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته يا أخية مكروه. وفيه حديث رواه أبو داود «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول لامرأته يا أخية فكره ذلك ونهى عنه» ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقال هو ظهار لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ " يا أخية " استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليس ظهارا حيث لم يبين فيه حكما سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهارا من التصريح بأداة التشبيه شرعا، ومثله أن يقول لها يا بنتي، أو يا أختي ونحوه. اهـ."

(کتاب الطلاق، باب الظھار، ج: 3، ص: 470، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144803101584

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں