
میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے لیے مارکیٹ سے ایک اچھا موبائل خرید کر دے دیں،اس کام کے لیے مجھے اپنا وقت نکال کر مارکیٹ جانا، مختلف موبائل دیکھنا اور تحقیق کرکے اس کے لیے مناسب موبائل تلاش کرنا ہوگا، میرا دوست مجھے صرف اپنا نمائندہ یا وکیل بنا کر بھیجتا ہے کہ میں اس کے لیے موبائل خرید دوں، ایسی صورت میں کیا میں اسے بتائے بغیر اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ، مثلاً 5 ہزار، 10 ہزار یا 15 ہزار روپے، موبائل کی اصل قیمت میں شامل کرکے لے سکتا ہوں؟
دوسری صورت: اگر موبائل خریدنے کے دوران دکان دار یا موبائل فروش مجھے اپنی طرف سے کوئی کمیشن یا رقم دے دے، تو کیا میں وہ کمیشن اپنے دوست کو بتائے بغیر اپنے پاس رکھ سکتا ہوں؟ ان دونوں صورتوں میں شرعی حکم کیا ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرما دیں کہ کون سی صورت جائز ہے اور کون سی ناجائز؟
صورتِ مسئولہ میں جتنی قیمت میں دکان دار نے سائل کو موبائل بیچا ہے اتنی ہی قیمت سائل اپنے دوست سے وصول کرسکتا ہے ،زائد پیسے لینا یا جو دکان دار نے بطور کمیشن کمی واقع کی ہے وہ پیسے رکھنا جائز نہیں ہوگا ، ہاں اگر دوست سے پہلے سے کمیشن یا اجرت طے کر لے پھر مقررہ اجرت لینا جائز ہو گا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"دفع إلى سمسار ألفا وقال: اشتر لي به شيئا إن كان السمسار معروفا بشراء شيء فهو عليه وإلا ففاسد، كذا في الوجيز للكردري."
(کتاب الوکالۃ،ج:3،ص:574،ط:رشیدیہ)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا. فليس له أن يطالب بالأجرة) يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".
(الکتاب الحادی عشر الوکالة، الباب الثالث،الفصل االاول،المادة:1467 ،ج:3،ص:573،ط:دارالجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803101580
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن