بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسے کا کام کرنے کا حکم

سوال

ایزی پیسے کا کام کرنا کیسا ہے؟

جواب

ایزی پیسے کا کام کرنا فی نفسہ جائز ہے، لیکن سمجھنا چاہیے کہ ایزی پیسے کا کام کرنے والا کمپنی کا نمائندہ اور وکیل اور ہوتا ہے اور نمائندہ صرف اُسی اجرت کا مستحق ہوتا ہے جو اجرت اس کو کمپنی سے وصول ہو، گاہک سے اسے اضافی رقم وصول کرنے کا حق نہیں ہوتا ؛ لہذا ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے رقم بھیجنے کی صورت میں دکان دار کے لیے صرف وہ اجرت وصول کرنا جائز ہوگی، جتنی اجرت کمپنی نے اس کے لیے متعین کی ہے، اس کے علاوہ دکان دار کا گاہک سے اضافی رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں۔

نیز ایزی پیسہ  اکاؤنٹ ہولڈر کو اکاؤنٹ میں متعین بیلنس رکھنے پر جو مختلف فوائد حاصل ہوتے ہیں، (مثلا کیش بیک، فری منٹس وغیرہ  ) اس سے فائدہ اٹھانا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہوگا۔

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامديةمیں ہے:

"(سئل) في دلال سعى بين البائع والمشتري وباع المالك المبيع بنفسه والعرف أن الدلالة على البائع فهل تكون على البائع؟

(الجواب) : نعم وفي فوائد صاحب المحيط الدلال إذا باع العين بنفسه ثم أراد أن يأخذ من المشتري الدلالة ليس له ذلك؛ لأنه هو العاقد حقيقة وتجب على البائع الدلالة؛ لأنه فعل بأمر البائع هكذا أجاب ثم قال ولو سعى الدلال بينهما وباع المالك بنفسه يضاف إلى العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه وإن كانت على المشتري فعليه وإن كانت عليهما فعليهما عمادية من أحكام الدلال وما يتعلق به ومثله في الفصولين وشرح التنوير للعلائي من البيع."

(كتاب البيوع ، 1 / 247 ، الناشر: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803101565
تاریخ13-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں